خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 634 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 634

خطبات طاہر جلد ۳ کے لئے آئی ہے اور پھر فرماتا ہے: 634 خطبه جمعه ۲ نومبر ۱۹۸۴ء كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَكِهِينَ كَذَلِكَ وَأَوْرَثْتُهَا قَوْمًا آخَرِيْنَ فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنْظَرِينَ (الدخان: ۲۶-۳۰) کتنے ہی جنات ، کیسے باغات اور چشمے تھے جو انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑے وزُرُوعِ اور لہلہاتی کھیتیاں تھیں وَ مَقَامِ كَرِيمٍ اور عزتوں کے مقامات تھے ان کے پاس وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فکھیں اور ایسی ایسی نعمتیں تھیں کہ جن میں وہ زندگی کے تعیش لوٹ رہے تھے كذلِكَ يقينا اسی طرح تھاوَ أَوْرَثْنَهَا قَوْمًا آخَرِينَ لیکن دیکھو ہم نے ان کا کسی کا کسی اور قوم کو وارث بنادیا کیونکہ وہ اس بات کے اہل نہیں تھے کہ وہ ان چیزوں کو اپنے پاس رکھیں امانت میں خیانت کرنے والے لوگ تھے اس لئے خدا نے وہ امانت ان سے چھین لی وَأَوْرَثْنَهَا قَوْمًا آخَرِينَ اور قو میں ایسی ہوتی ہیں جن سے ان کی نعمتیں چھین کر دوسروں کو دے دی جاتی ہیں لیکن فرمایا ان کا اور ان قوموں کا ایک فرق ہے بعض قوموں کے جب دن پھرتے ہیں ! دن بدل جاتے ہیں ، جب ان کے بلندی کے زمانے تنزل میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو بعض دفعہ صدیاں چھوڑ کر ہزاروں سال لوگ انکی اس حالت پر روتے ہیں ، وقت یاد کرتے ہیں، کیسے کیسے عظیم الشان وقت تھے وہ آئے اور ہاتھوں سے نکل گئے ۔ بغداد پر جو تباہی آئی اس کو سینکڑوں سال ہو چکے ہیں آج تک لوگ اس تباہی کے اوپر روتے ہیں اور آنسو بہاتے ہیں۔ سپین پر جو تباہی آئی اور مسلمانوں سے حکومت چھینی گئی ، کتنا درد ناک واقع گزرا ہے؟ آج تک مسلمان جب اس تاریخ کو پڑھتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ اسی طرح رومن امپائر کو رونے والے دنیا میں موجود ہیں مگر فرمایا کہ وہ لوگ جو خدا کے انبیاء کا انکار کرتے ہیں ان کی ہلاکت اور ان ہلاکتوں میں ایک فرق ہے ، ان کو کوئی رونے والا نہیں ہوا کرتا جو بعد میں آئے فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ نہ ان پر آسمان روئے گا اور نہ ان پر