خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 621 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 621

خطبات طاہر جلد ۳ 621 خطبه جمعه ۲ نومبر ۱۹۸۴ء ضَللًا بَعِيدًان (النساء: (1) - کیا تو نے ایسے لوگوں کے متعلق خبر نہیں پائی یا ایسے لوگ نہیں دیکھے جو دعوی تو یہ کرتے ہیں یا گمان یہ کرتے ہیں کہ وہ ایمان لے آئے ہیں اس چیز پر جو تیری طرف اتاری گئی ہے اور اس پر بھی ایمان لے آئے ہیں جو تجھ سے پہلے اتاری گئی۔ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَا كَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ لیکن اس کے باوجود وہ طاغوت یعنی غیر اللہ کی طاقتوں کی طرف فیصلوں کے لئے رجوع کرتے ہیں ۔ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِه اور واضح طور پر ان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ان کا انکار کر دیں، ان کے فیصلے کی اہلیت کا ہی انکار کر دیں ، ان کے اس دعوی کا ہی انکار کر دیں کہ وہ مذہبی معالات میں فیصلے کے مجاز ہیں وَيُرِيدُ الشَّيْطَنُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَللًا بَعِيدًان اور شیطان یہ چاہتا ہے کہ تمہیں بہت بری طرح گمراہ کر دے۔ صلى الله سوم چنانچہ ان معاملات میں اللہ تعالی انبیاء کو حکم قرار دیتا ہے اور قرآن کریم میں بکثرت ایسی آیات پائی جاتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم بن کر آئے تھے اور انبیاء کی تعریف میں ہی ان کا حکم ہونا شامل فرما دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آئندہ زمانہ میں بھی آنحضرت ﷺ نے ایک حکم کی خبر دی اور فرمایا کہ جب اختلافات بڑھ جائیں گے اور مسلمانوں کی حالت خراب ہو جائے گی تو اس وقت خدا تعالیٰ نازل فرمائے گا حكما عدلا ایسی عدالت کو نازل فرمائے گا جو حکم ہوگی ، عدل ہوگی ، فیصلے کرے گی اور انصاف کے ساتھ فیصلے کریں گی اور وہ عدالت مسیح موعود ہے۔ کسی جگہ بھی اشارہ بھی یہ بات بیان نہیں فرمائی، مومنوں کو یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب تمہارے آپس میں مذہبی عقائد کے اختلافات واقع ہو جائیں تو تم اپنے فیصلے اپنے علما سے کرواؤ کہ کس کا عقیدہ سچا ہے؟ بلکہ فرمایا کہ انتظار کر وایسی صورت میں اللہ کی طرف سے دوبارہ عدالت قائم کی جائے گی اور حکم عدل ہی یہ فیصلے کرے گا کہ کس کا عقیدہ سچا تھا اور کس کا غلط تھا ؟ صلى الله عروسه۔ چنانچہ اس مضمون کے اوپر آنحضرت ﷺ نے مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ایک ایسا وقت آئے گا جبکہ مسلمانوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو جائیں گے اور ان اختلافات کے نتیجہ میں وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ شدید بے چینی کی کیفیت پیدا ہوگی ، ایک بد نظمی پیدا ہو جائے