خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 594
خطبات طاہر جلد ۳ 594 خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۴ء جس حالت تک پاکستان پہنچ چکا ہے اور آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے وہ ایسے عذاب کی خبر دے رہی ہے حالت جس میں قومی طور پر عذاب آجایا کرتے ہیں۔ پھر بعض دفعہ نیک و بد میں وہ تمیز نہیں رہا کرتی جو عام حالات میں پیدا کر دی جاتی ہے۔ ایک تمیز تو بہر حال ہو گی اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جہاں تک احمدیت کی صداقت کا تعلق ہے، احمدیت کے قرب الہی کا تعلق ہے اپنے نیک بندوں کو خدا تعالیٰ غیروں سے ممتاز ضرور کرے گا اس میں تو کوئی شک نہیں لیکن قومی عذابوں میں نیک بندوں کو بھی تکلیفیں ضرور پہنچ جایا کرتی ہیں اور ایک تکلیف تو بہر حال پہنچتی ہے جب اپنے بھائی بندوں کو دکھوں میں مبتلا د یکھتے ہیں تو سب سے زیادہ دکھ پھر یہی لوگ محسوس کرتے ہیں اس لئے تیاری کریں اس بات کی جو نعمت اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے اسے غیروں تک پہنچائیں اور ان کو متنبہ کریں اور انہیں بتائیں کہ یہ اچھی راہیں نہیں ہیں جن کو تم نے اختیار کیا ہے اور دن تھوڑے رہ گئے ہیں تمہارے اس لئے خوف کرو اور تقویٰ اختیار کرو۔ لیکن افسوس کہ جو اطلاعیں وہاں سے مل رہی ہیں وہ ایسی اطلاعیں نہیں ہیں جن پر انسان اطمینان حاصل کر سکے ۔ واپسی کی بجائے بعض معاملات میں مزید آگے بڑھ رہے ہیں۔ چنانچہ آج ہی اطلاع ملی ہے ٹیلیفون پر کہ گوجرانولہ کی ہماری مسجد پر سے مولویوں نے خود اوپر چڑھ کر کلمہ مٹایا کالی سیاہیاں پھیر کر اسکی تصویر میں بھی پہنچی ہوئی ہیں میرے پاس۔ چند دن پہلے کی بات ہے کوئی خدا کا خوف نہیں کیا ۔ کوئی حیا نہیں کی کہ ہم کن لوگوں میں شمار کئے جائیں گے۔ کلمہ مٹانے والوں کے اوپر جب اس حالت میں موت آئے تو ان کے متعلق کون کہہ سکتا ہے کہ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ کا حق تم نے ادا کر دیا ۔ بہر حال جس تاریکی میں وہ بس رہے تھے اس کا انہوں نے حق ادا کیا اور اس گواہی کو اپنے ہاتھ سے مٹایا کالا رنگ پھیر کر کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے اور اسکے سوا کوئی معبود نہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ محمد مصطفیٰ ﷺ اسکے بندے اور رسول ہیں ۔ احمدیوں نے دوبارہ نسبتاً اونچی جگہ پہ وہی کلمہ مسجد میں لکھ دیا اور انہوں نے کرنا ہی تھا اور یہی کریں گے۔ کوئی نہیں ہے دنیا میں ایسی طاقت جو احمدیوں کو کلمہ پڑھنے سے یا کلمہ لکھنے سے روک سکے جو سزائیں تمہاری پٹاری میں موجود ہیں بے شک نکالتے چلے جاؤ بہر حال احمدی کلمہ سے نہیں ہٹے گا ۔ یہ وہم دل سے نکال دے اگر کسی حکومت یا کسی قوم کے دماغ میں یہ وہم ہے۔ چنانچہ انہوں نے صلى الله عروسه