خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 590
خطبات طاہر جلد ۳ 590 خطبه جمعه ۱۹ را کتوبر ۱۹۸۴ء لمحہ تمہارے اسلام کا لمحہ لکھا جائے گا۔ پھر وہ ان کو جذبات کی دنیا میں داخل کر دیتا ہے احسانات کی باتیں فرماتا ہے کہ کس طرح تم پر نعمتیں کیں تم سے پیار کا سلوک کیا ، کیا تم ایسے ہو جاؤ گے ناشکرے کہ اب یہ نعمتیں پانے کے بعد پھر ان حالتوں میں واپس لوٹ جاؤ گے! اسکے بعد فرمایا کہ جو نعمتیں تم نے پالی ہیں ان کو اپنے تک محدود نہ رکھو ان کو آگے پھیلاؤ اور یہ جو حکم آتا ہے اب اس میں صرف مسلمانوں کی جماعت مراد نہیں ہے بلکہ غیر مسلم سوسائٹی تک بھی ان نعمتوں کو پھیلانے کی کوشش کرو۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کا احسان اور یہ ہے قرآن کریم کی حیرت انگیز تعلیم کہ جو نعمت اتارتا ہے اسے عام کرتا چلا جاتا ہے۔ مسلمان سوسائٹی کو پہلے اس بات کی اہل بناتا ہے کہ وہ اس نعمت کو خود قبول کرلے اور خود قبول کرنے کے بعد فرماتا ہے کہ تم نے اس پر بیٹھ نہیں رہنا۔ تمہاری منزل صرف یہ نہیں ہے کہ تم ایسے ہو جاؤ اپنے ماحول کو بھی ایسا بناؤ ۔ فرمایا: وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ کہ اے محمد مصطفی ﷺ کے غلامو ! تم نے اس نعمت کو خوب پالیا اب اس نعمت کو پھیلانے کی کوشش کرو۔ اپنے گردو پیش اپنے ماحول میں یہی محبتوں کی نہریں جاری کر دو کیونکہ اسی کا نام جنت ہے۔ تم میں ایک امت اس بات پر وقف ہو جائے کہ لوگوں کو بھلائی کی طرف بلائے ، امر بالمعروف کرے اور نھی عن المنکر کرے وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یہی وہ لوگ ہیں جو بالآخر نجات پائیں گے اور فلاح پائیں گے ۔ چنانچہ پاکستان کے احمدیوں کے اوپر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت نازل فرمائی ان کے دل ملا دیئے تو اس بات پر خوش نہ ہوں نعوذبالله من ذالک کہ غیر آپس میں لڑ رہے ہیں، جو ان کا مقدر ہے وہ ان کے ساتھ ہے مگر تمہارا مقدران کی مگر وجہ سے نہیں بدلنا چاہئے ، تمہارا مقدر بہر حال یہی رہے گا کہ تم غیروں کو بھی نیکی کی طرف بلاؤ اور ان کے دکھوں پر خوش ہونے کی بجائے ان کے دکھ دور کرنے کی کوشش کرو کیونکہ فلاح کی یہی راہ ہے جو قرآن کریم سے ہمیں معلوم ہوئی ۔ پس اس وقت جو پاکستان کا معاشرہ مناقشتوں میں بٹ گیا