خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 588
خطبات طاہر جلد ۳ 588 خطبه جمعه ۱۹ را کتوبر ۱۹۸۴ء فضل فرمایا اور یہ بھی ایک بہت ہی عظیم الشان فضل ہے جسے جماعت کو کبھی بھلانا نہیں چاہئے کہ بہت سی ایسی جماعتیں جن میں تمیں تیس چالیس چالیس سال سے دشمنیاں چلی آرہی تھیں ۔ ان کے اندر سارے اختلافات دور ہو گئے اور باہمی محبت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ ایثار اور قربانی کی روح سے وہ ملنے لگے ۔ چنانچہ کثرت کے ساتھ ایسی رپورٹیں مجھے موصول ہوتی رہی ہیں اور اب بھی ہو رہی ہیں کہ جن جن جماعتوں کے متعلق اختلافات کا پتہ چلا وہاں مرکزی نمائندے پہنچے اور ان کو بتایا کہ دیکھو! یہ دن کون سے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کے ساتھ تمہیں لڑنے والوں ، افتراق پیدا کرنے والوں ، دشمنی کرنے والوں سے نکالا اور ایک ہاتھ پر اکٹھا کیا تھا اب تم اس حالت میں دوبارہ واپس لوٹ رہے ہو جب کہ غیر بھی تمہارے دشمن ہو چکے ہوں اگر خدا کو بھی تم نے اپنا نہ بنایا تو تمہارا کیا رہے گا؟ چنانچہ یہ سادہ نصیحت کے کلمات جب جماعت کے کانوں تک پہنچے تو جو رد عمل دکھایا ہے وہ حیرت انگیز ہے اور بعض معاف کرنے والوں کی چٹھیاں بھی مجھے آئی ہیں اور بعض معافی مانگنے والوں کی چٹھیاں بھی آئی ہیں اور جو کیفیات انہوں نے لکھی ہیں وہ نا قابل بیان ہیں ۔ کہتے ہیں آپ تصور نہیں کر سکتے کہ کیسی لذتیں ہمیں عطا ہوئی ہیں اللہ کی طرف سے دشمنیاں بھلانے کے نتیجے میں اور معافیاں دینے کے نتیجہ میں ۔ بیسیوں سال اپنی جہالت میں ہم نے عناد پالے، ایک دوسرے کے خلاف نفرتوں کی تعلیم دی، خاندانوں کو بانٹا۔ ان کے لئے بھی آگ پیدا کی اپنے لئے بھی آگ پیدا کی لیکن یہ عجیب دور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان کے ساتھ ساری نفرتیں مٹا دیں اور بڑی محبت کے ساتھ ہم ایک دوسرے سے ملنے لگے ہیں ۔ چنانچہ ایک صاحب کا ابھی کل ہی خط آیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ بہت دیرنیہ میری اپنے عزیزوں، اپنے چچا، اپنے بعض دوسرے دوست لوگوں سے، رشتہ داروں سے قریبی شریکے کی دشمنیاں چلی آرہی تھیں ۔ نماز تو ہم ایک ہی مسجد میں پڑھتے تھے لیکن کبھی ایک دوسرے کو السلام علیکم نہیں کہا۔ کہتے ہیں کہ اب جب ان کو تو غالباً کسی نے نصیحت بھی نہیں کی خود ہی خیال آیا یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے بھی جماعت کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کر رہے ہیں، ان کو ایک دن خیال آیا کہ یہ تو بڑا ظلم ہے کہ دشمن بھی ہمیں مار رہا ہو اور ہم بھی ایک دوسرے سے نفرت کا شکار ہوں یہ تو نہیں ہو گا چاہے مجھے