خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 586
خطبات طاہر جلد ۳ 586 خطبه جمعه ۱۹ را کتوبر ۱۹۸۴ء صلى الله بن جائے لیکن فی ذاتہ اول طور پر یہ مقام صرف او طور پر یہ مقام صرف اور صرف حضرت محمد مصطفیٰ علی کا مقام ہے جو اس آیت میں بیان ہواوَ لَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ بہر حال آپ کے غلاموں کے لئے اللہ تعالیٰ نے مزید آسانیاں پیدا فرمائیں اور یہ بنیادی شرط مقرر فرمادی کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ اختیار نہ کرو۔ جب انبیاء گزر جاتے ہیں تو انبیاء کے بعد ان کے خلفاء ان کی نمائندگی کرتے ہیں اور صلى الله عروسه بیعت خلافت بھی اسی لئے لی جاتی ہے۔ خلیفہ فی ذاتہ تو اللہ کی رسی نہیں ہے لیکن اللہ کی رسی کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے اسلئے حقیقت میں جب آپ خلافت کے ہاتھ میں بیعت کا ہاتھ تھماتے ہیں تو فی الحقیقت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی غلامی کا عہد کر رہے ہوتے ہیں اسکے سوا تو خلیفہ کی کوئی حیثیت نہیں اگر وہ غلامی حاصل نہ ہو تو دوکوڑی کی بھی قیمت نہیں ہے خلیفہ کی اس لئے جب اس طرف توجہ مبذول ہوتی ہے تو بیعت کی قیمت بھی بہت بڑھ جاتی ہے بیعت کی ذمہ داریاں بھی بہت بڑھ جاتی ہیں اور و لَا تَفَرَّقُوْا کے نتیجے میں جو انذار بھی ہے اسکی طرف بھی توجہ مبذول ہو جاتی ہے کہ کوئی انسان جب بیعت کرنے کے بعد ایسی حرکت کرتا ہے جس سے افتراق پیدا ہو جس سے دل پھٹتے ہوں اس کا بہت ہی خطرناک نتیجہ نکل سکتا ہے اور تقویٰ کے اوپر ضرب لگانے والی بات ہے۔ پھر اللہ تعالی اس مضمون کو اور زیادہ وضاحت کے ساتھ اور کسی قدر نرمی اور رحم اور شفقت کے ساتھ بیان فرماتا ہے وَاذْكُرُ وا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ اگر تم ویسے خوف نہیں کھاتے تو کچھ یہ احساس ہی کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر کتنا احسان کیا تھا ، کتنی بڑی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمائی اور کن تباہیوں سے تمہیں بچایا ہے اتنا ہی احساس کرو۔ مختلف رنگ ہوتے ہیں سمجھانے کے بعض لوگ انذار سے سمجھتے ہیں، بعض لوگ احسان یا ددلانے سے سمجھتے ہیں، بعض تبشیر سے سمجھتے ہیں اور قرآن کریم کا یہ طریق ہے کہ ہر رنگ اختیار فرماتا ہے جو دل جس مزاج کا ہوا سکے دل پر کوئی نہ کوئی بات اثر کر جاتی ہے۔ فرمایا وَاذْكُرُ وا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ اللہ کی نعمت کا خیال کرو کتنی عظیم الشان نعمت خدا نے تم پر کی اِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ تم تو دشمن تھے باہم دگر تم تو ایک دوسرے کی نفرتوں میں مبتلا تھے اور غیظ و غضب کی آگ بھڑک رہی تھی