خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 573 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 573

خطبات طاہر جلد ۳ 573 خطبه جمعه ۱۲ اکتوبر ۱۹۸۴ء روشن تر کر دو اور پھر دیکھو کے تمہارے مقابل کی ساری تاریکیاں زائل ہو جائیں گی۔ فَإِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ لیکن اس کے لئے صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے راتیں ملتی ہیں لیکن فرماتا ہے کہ بعض دفعہ راتیں بڑی بو جھل بھی ہو جایا کرتی ہیں اور روشنی آتی تو ہے اور اندھیرے کونوں میں بدل دیتی ہے لیکن جو لوگ دکھوں سے گزر رہے ہوتے ہیں ان کے لئے لمحہ لمحہ ایک عمر لگتا ہے گزر گئی اس لئے ساتھ صبر کی تعلیم ساتھ دی ۔ کیونکہ قرآن کریم تو Slognism پیدا نہیں کرتا محض یہ دعوی کر کے کہ تم جیتو گے تم جیت گئے۔ تم روشنی ہو اور دشمن اندھیرا ہے یہ باتیں کر کے قرآن کریم تسلیاں دے کر چھوڑتا نہیں ہے بلکہ جس لائحہ عمل کے اوپر داخل کرتا ہے انسان کو اس لائحہ عمل کے خطرات سے بھی آگاہ فرماتا ہے۔ فرماتا ہے کہنے کو تو آسان بات ہے، صبح ہوئی اور رات ٹل گئی لیکن جنہوں نے دکھوں کی رات کاٹی ہو ان کو علم ہوتا ہے کہ کتنی مصیبتوں کے بعد، کتنے انتظار کے بعد وہ صبح طلوع ہوئی تھی جس کے لئے وہ آنکھیں لگائے بیٹھے تھے۔ فرمایا و اصبر صبر ضرور تمہیں کرنا پڑے گا ۔ فَإِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ لیکن یہ یقین رکھو کہ حسن پیدا کرنے والوں کے اجر کو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کیا کرتا۔ محسن سے مراد نیک اعمال کرنے والا بھی ہے۔ محسن سے مراد تمام سوسائٹی میں تمام معاشرہ صلى الله میں حسن بکھیرنے والا بھی ہے اور محسن سے مراد عبادت کو اتنے خوبصورت رنگ میں ادا کرنے والا بھی ہے کہ اللہ کی نگا ہیں اس پر پڑ رہی ہیں ۔ چنانچہ آنحضرت علی نے محسن کی ایک یہ بھی تعریف فرمائی کہ اس طرح عبادت کرو۔ احسان کیا ہے؟ اس طرح عبادت کرنا جیسے تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور پھر خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔ (صحیح بخاری کتاب الایمان باب سوال جبریل النبی ﷺ عن الایمان والاسلام والاحسان ) ایسی خوبصورت ہو جائے تمہاری عبادت کہ اللہ کے پیار کی نگاہیں پڑنے لگیں۔ فرمایا ایسی صورت میں تمہیں کیسے نقصان پہنچ سکتا ہے؟ تم تو خدا کی آنکھوں کے سامنے رہو گے دن کو بھی خدا کی نگاہوں کے سامنے رہو گے اور راتوں کو بھی خدا کی نگاہوں کے سامنے رہو گے اس لئے وہم و گمان بھی دل میں نہ لا نا کہ تم نا کام ہو گے۔ یہ تو مومنوں سے خطاب ہے۔ اس کے بعد فرماتا ہے ان لوگوں کے متعلق جو ظلم کرنے والے ہیں جو اپنے مقدر بیگاڑ لیتے ہیں اپنے ہاتھوں سے فرماتا ہے :