خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 570 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 570

خطبات طاہر جلد ۳ 570 خطبه جمعه ۱۲ اکتوبر ۱۹۸۴ء وَقُلْ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَمِلُونَ وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلَّهُ فَاعْبُدُهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (ہود: ۱۱۴-۱۲۴) پھر فرمایا : قرآن کریم کی جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے اگر چہ یہ تلاوت جمعہ کے لئے جو وقت مقرر ہوتا ہے اندازا اسکی نسبت ذرا زیادہ ہے لیکن مجبوری یہ در پیش ہے کہ اس میں ایک مکمل مضمون ہے جو اوّل سے آخر تک مربوط چلتا ہے اور کسی جگہ بھی اس تلاوت کو اس سے پہلے جو میں نے ختم کیا ہے اگر ختم کیا جاتا تو وہ بات مکمل نہ ہو سکتی اس لئے جہاں تک بار یک تفسیری پہلو ہیں ان کو چھوڑتے ہوئے نسبتاً اس مضمون سے تعلق رکھنے والی بنیادی باتوں کو لیتے ہوئے میں ان آیات پر کچھ روشنی ڈالتا ہوں ۔سب سے پہلے تو خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے: وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ کہ وہ لوگ جو ظلم کرنے والے ہیں ان کی طرف کسی پہلو سے بھی جھکو نہیں اور ان سے پناہ لینے کا خیال دل سے نکال دو۔ رکن کہتے ہیں اس ستون کو جو مضبوطی سے ایک جگہ قائم ہو اور اس پر سہارا لینے کو رکن کہتے ہیں، اس نے سہارا لیا رَكَنَ يَرْكَنُ سہارا لیا یا سہارا لیتا ہے۔ تو فرمایا جو لوگ تم پر ظلم کرنے والے ہیں ان سے کسی قسم کی بھی امید نہیں رکھنی اور کوئی سہارا ان پر نہیں لینا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ تمہیں بجائے اس کے کہ ان سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا تمہیں آگ کا عذاب پکڑے گا۔ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ اور تمہارے لئے خدا کے سوا اور کوئی ولی نہیں ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ اگر اس ولی کو چھوڑ کر تم کسی اور کی طرف جھکو گے تولا تُنْصَرُوْنَ کہیں سے کسی طرف سے بھی تمہاری مدد نہیں کی جائے گی ۔ یہ ایک بہت ہی اہم بنیادی نکتہ ہے جسے مومن کو سمجھنا چاہئے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب خدا کے نام پر کسی مومن کو تکلیف دی جاتی ہے تو غیر اللہ سے مدد کی