خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 562
خطبات طاہر جلد ۳ 562 خطبه جمعه ۵ را کتوبر ۱۹۸۴ء کرتے کھانسی آجاتی ہے جتنا مرضی چاہے اسکو روک نہیں سکتا تو بے اختیاری سے مراد ایسی بے اختیاری ہے جو واقعہ بے اختیاری ہے ۔ آپ چاہیں ہیں بھی تو روک نہ سکیں اس : نہ میں اس میں ارادے کا دخل نہ ہو۔ اگر ایسا ہو گیا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو مغفرت کی نظر سے دیکھے گا عفو سے کام لے گا اس سے وَكَانَ اللهُ سَمِيعًا عَلِيمًا اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا ہے اور خوب جاننے والا ہے۔ سننے والا اور جاننے والا ان معنوں میں کہ جو کچھ کوئی کہہ رہا ہے وہ اللہ تعالی سنتا ہے اور جو کچھ تم دلوں میں چھپائے ہوئے ہو اس کے جواب میں وہ حال بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے اسلئے تمہیں اونچا بولنے کی ضرورت کیا ہے؟ اگر تو خدا تعالی صرف سمیع ہوتا ہے تو پھر شاید تمہارے لئے ایک فکر کی بات ہوتی کہ اگر ہم نے جواب نہ دیا تو ہمارے دل کا حال خدا کو پتہ نہ نہیں لگے گا۔ فرمایا جس طرح وہ سننے والا ہے جو ظلم تم پر ہو رہا ہے وہ تمام کا تمام اس کے علم میں آرہا ہے اسی طرح ا وہ تمہارے دلوں کی کیفیات کو جاننے والا ہے۔ ان دلوں کی کیفیات پر بھی اسکی نظر ہے۔ إنْ تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوا قَدِيرًا (النساء : ۱۵۰) یہاں ایک بہت ہی عمدہ مضمون ہے مومنوں کی صفات کے متعلق إِلَّا مَنْ ظُلِمَ کہنے کے بعد ان کی دل کی اصل کیفیت بیان فرمادی ۔ اِن تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ تم اگر خیر ظاہر کر دیا اسے چھپا لو أَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءٍ فَإِنَّ اللهَ كَانَ عَفُوا قَدِيرًا (النساء: ۱۵۰) بات تو ہو رہی تھی سو کی کہ خدا بری بات کے اظہار کو پسند نہیں فرماتا إِلَّا مَنْ ظُلِمَ سوائے اس کے کہ وہ مظلوم ہو اور جب مظلوموں کی بات شروع کی تو وہاں سور کا ذکر ہی کوئی نہیں کیا اِنْ تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ اگر تم بھلائی کو ظاہر کر دیا بھلائی کو چھپا لو تو یہاں وہی بات ظاہر فرمادی گئی جو میں نے بیان کی کہ انبیاء جب بظاہر سو کی بات کرتے ہیں جواب میں تو خیر مقصود ہوتی ہے ان کی ۔ ہرگز دکھ دینا ان کو پیش نظر نہیں ہوتا اس لئے ان کا اظہار بظاہر سور ہے ، بظاہر سختی ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے خیر کا اظہار کیا ہے ۔ وہ ہیں مستثنیٰ لوگ جن کے متعلق إِلَّا مَنْ ظُلِمَ کہہ کر بظاہر یہ بتایا گیا کہ انہوں نے جوابا سختی کی ہے لیکن معا خدا نے یہ غلط فہمی دور فرمادی ان کی سختی بھی خیر کے نتیجہ میں ہے۔ وہ بھلائی چاہتے تھے ان کی