خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 558
خطبات طاہر جلد ۳ 558 خطبه جمعه ۵ را کتوبر ۱۹۸۴ء کا کیونکہ نماز تمہیں اللہ کی یاد عطا کرے گی اور یہ اس کا سب سے بڑا فائدہ ہے۔ وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ مطلب یہ ہے کہ فحشا سے روکنا نماز کا یہ بھی ایک فائدہ ہے، منکر سے را سے روکنا یہ بھی ایک فائدہ ہے لیکن یہ فوائد منفی نوعیت کے ہیں۔ منفی ضرر سے تمہیں بچانے والے لیکن یہ یاد رکھو اصل فائدہ نماز کا خدا تک پہنچانا ہے، اس کی یاد تمہارے دلوں میں پیدا کرنا ہے اس لئے وہی عبادت برحق ہے اور آخر تک پہنچانے والی ہے جو ذکر اللہ پر مشتمل ہو اور اسکی عظمت سے غافل نہ ہونا نماز کے وقت اگر تمہاری نماز ذکر اللہ سے غافل رہے اللہ کی یاد میں تمہیں مبتلا نہ کرے تو اصل اور اعلیٰ مقصد سے تم محروم رہ جاؤ گے۔ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ نے پھر اس مضمون میں ایک نئی کروٹ پیدا کی ۔ عجیب کتاب ہے یہ اور ہر آیت بعض اوقات یوں رنگ بدلتی ہے جیسے کہ قرآن کریم فرماتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن : ۳۰) ہر وقت وہ ایک نئی شان کے ساتھ جلوہ گر ہو رہا ہے اور بوریت نہیں ہونے دیتی ۔ یکسانیت کے نتیجہ میں جو نیند آجاتی ہے اس کا خود علاج کرتی چلی جاتی ہے۔ ربط مضمون بھی قائم اور مضمون کی شکل بھی بدلتی رہتی ہے۔ اب آپ نے دیکھا کہ پہلی آیت بظاہر اور مضمون سے شروع ہوئی تھی دوسری آیت اور مضمون بیان کر رہی ہے لیکن فی الحقیقت ایک ہی مضمون ہے جس میں رہتا ہے اور رنگ بدلا گیا ہے اور یہاں بھی آگے وہی مضمون جاری وساری ہے لیکن ایک اور طریق پر فرمایا: وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتُبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کہ جب تم اپنے نفس کی تربیت کر لو اور اللہ کی یاد کے نتیجہ میں تم خدائی صفات اپنے اوپر وارد کر لو تو یہ زندگی کا آخری مقصد نہیں ہے۔ انفرادی تربیت کے بعد اسلام خاموش نہیں ہو جا تا بلکہ بعض قومی ذمہ داریوں کی طرف تمہیں توجہ دلاتا ہے۔ اگر تم احسن رنگ میں رنگین ہو گئے ہو اور دوسروں کو اس رنگ کی طرف نہیں بلاتے تو تم اپنے مقصد میں نا کام ہو۔ Creation سے بات شروع ہوئی تھی یعنی تخلیق ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے ہم نے تمہیں تخلیق کے ڈھنگ سکھا دیئے ہیں، اب تخلیق کرو۔ زمین و آسمان کی پیدائش کا مقصد یہ تھا کہ تمہیں پیدا کیا جائے احسن الخلق کے طور پر اور پھر تمہیں احسن الخلق کے اطوار سکھائے گئے ۔ اب جس طرح خدا نے تمہیں حسن عطا کیا ہے اس طرح آگے اس حسن کو پھیلاؤ اور تم بھی روحانی تخلیق میں مصروف ہو جاؤ