خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 515 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 515

خطبات طاہر جلد ۳ 515 خطبه جمعه ۱۴ ر ستمبر ۱۹۸۴ء آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں لیکن پہلے یہ تو سوچیں ان لوگوں کی عقلوں کو ہو کیا گیا ہے؟ دنیا میں پہلے بھی انبیاء کی مخالفت ہوئی ہے مگر اتنی بے وقوف اور اتنی پاگل قوم پہلے نہیں کبھی آپ نے دیکھی ہوگی ۔ ہر چیز الٹ گئی ہے، جہالت کی حد ہے انسان سمجھنے دیں گے تمہیں اپنے آپ کو لیکن تم نے ایک کام بھی انسانوں والا نہیں کرنا اس سے انسانوں کی دل آزاری ہوگی ۔ انسان سمجھیں گے کہ یہ بھی گویا ہم ن یہ جیسا ہو گیا ہے، یہ تکلیف ہے ساری ، یہ تو بائیبل کی تعلیم لگتی ہے قرآن کی تعلیم تو نہیں لگتی اور بگڑی ہوئی بائیل کی تعلیم لگتی ہے کیونکہ سچی بائبل کی یہ تعلیم نہیں ہو سکتی ۔ جو رویہ آج کی شرعی عدالت کا ہم سے کر رہی ہے وہ حضرت آدم کے زمانہ میں نعوذ باللہ من ذلک خدا نے آدم کے ساتھ اختیار کیا تھا۔ اور خداوند خدا نے کہا دیکھو انسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہو گیا ۔ ( پیدائش باب ۳ آیت (۲۱) کتنا بڑا ظلم ہو گیا یعنی ہم سے مراد خدا اور فرشتے ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نعوذ باللہ من ذالک بائبل کے بیان کے مطابق کہ کتنا بڑا اندھیر ہو گیا ہے کہ انسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک طرح ہو گیا ہے۔ ” اب کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنا ہاتھ بڑھائے اور حیات کے درخت سے بھی کچھ لے کر کھائے اور ہمیشہ جیتا ر ہے۔ ( پیدائش باب ۳ آیت (۲۲) اگر وہ آگے بڑھ گیا اور کوئی زندگی بخش کوئی پھل کھا گیا تو پھر تو ہم بالکل ہی مارے جائیں تو گے کہ آدم زندہ ہو جائے ۔ ی تعلیم جو انسانی فہم سے بالا ہے اور ہر صاحب فہم یقین رکھتا ہے کہ لا ز ما یہ بعد میں کسی جاہل آدمی کی بنائی ہوئی ہے۔ یہ تعلیم بائیبل میں خدا کی طرف منسوب کی ہوئی ہے۔ یہ تو سمجھ آسکتی ہے کہ کسی جاہل انسان نے بنائی ہو لیکن پہلے اس سے چند سال پہلے تک مجھے یہ نہیں سمجھ آیا کرتی تھی کہ وہ کسی قسم کے انسان ہونگے جنہوں نے ایسی احمقانہ تعلیم بنائی ہوگی ، اب سمجھ آگئی ہے کہ ایسے بھی ہو سکتے ہیں۔ جب تک دیکھا نہ جائے اس وقت تک کیسے پتہ چل سکتا ہے باقی تو نظریاتی باتیں ہیں صرف ۔ تو وہ جو قصے تھے کہ ضرور کسی نے بنایا ہو گا یہ معاملہ ایسے بھی انسان ہو سکتے ہیں جو ایسی ایسی جاہلا تعلیمیں بنا کر خدا کی طرف منسوب کر دیں ۔ تو ان قصوں کو آج ہم نے حقیقت میں دیکھا۔ آدم کا