خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 499 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 499

خطبات طاہر جلد ۳ 499 خطبہ جمعہ ۷ ستمبر ۱۹۸۴ء مخالفت کا رنگ نہیں رہا۔ شرافت اس زمانہ میں موجود ہوتی تھی یعنی با وجود ا سکے کہ وہ جوش نہیں دکھایا جو پہلے تھا لیکن پھر اسکی کا یا اس لحاظ سے پلٹ گئی تھی کہ پھر اس نے کبھی بھی مخالفت نہیں کی اس دوست نے بلکہ بعض غیر مجالس میں بھی بیٹھ کر وہ ہمیشہ احمدیت کے متعلق یہ ضرور کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ آنحضرت علی اور خدا کے عاشق ہیں ۔ صلى الله تو بہر حال وہ زمانہ بدل گیا اب حکومتیں اپنے خرچ پر ایسا مواد شائع کروا رہی ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نعوذ باللہ خدا ثابت کیا جائے ، آنحضرت ﷺ سے افضل کہا جائے ۔ کیوں ہو رہا ہے یہ؟ واضح حقیقت یہ ہے کہ جب ایک شخص کے اندر حسن ہوگا اور یہ خطرہ ہو کہ جو اسے دیکھے گا وہ اسکا عاشق ہو جائے گا تو پھر ایک فرضی انسان بنا کر مکروہ اور منحوس اس کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ احمدیت کو اب یہ اس طرح پیش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان کے لئے کوئی اور چارہ نہیں رہا۔ احمدیت کو اپنے اصلی لباس میں اپنی اصل حالت میں جو ہم یقین رکھتے ہیں جو ہمارے ارادے جو ہماری سوچ ہے اگر اسی طرح یہ دنیا کے سامنے پیش ہونے دیں تو دیکھتے دیکھتے ملک احمدی ہونا شروع ہو جائیں ۔ ملک کے بعد ملک احمدی ہونا شروع ہو جائیں گے ۔ اب یہ ساری تکلیف ان کو یہ ہے کہ احمدیت کو بگاڑ کر پیش کیا جائے تا کہ اصلی حقیقت کسی کے سامنے نہ آئے اسلئے فرضی باتیں بنا رہے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں انگلستان میں بھی یہ رواج تھا کہ پتلے بنا کر ان کو سوئیاں چبھو یا کرتے تھے اور یہ جادو تھا ان کا۔ اصلی آدمی تک رسائی نہ ہو تو پتلوں کو سوئیاں چھو یا کرتے تھے کہ اس کا دکھ اسکو پہنچے گا اس لئے جو فرضی احمدیت انہوں نے بنائی ہے اسکو یہ کانٹے چھو رہے ہیں لیکن پہلا جادو تو کام نہیں کیا کرتا تھا یہ جادو اس حد تک ضرور کام کر گیا ہے کہ اس فرضی پتلے کو جو سوئیاں چھوتے ہیں اس کا دکھ احمدی کو ضرور پہنچتا ہے۔ احمدی جانتا ہے کہ پتلا فرضی ہے لیکن میخیں ان دلوں میں ٹھونکی جاتی ہیں جو اصلی اور حقیقی ہیں کیونکہ ان کے پیاروں کو گندی گالیاں دی جاتی ہیں ان کے اوپر جھوٹے الزام لگائے جاتے ہیں ان کے متعلق ہر قسم کی فحش کلامی کی جاتی ہے اور اس کا نام انصاف ہے۔ جب احمدی ان باتوں کا ذکر کرتے ہیں کہ اس ملک میں یہ ہو رہا ہے اور انصاف کا عالم یہ ہے کہ مردے اکھیڑ دیئے گئے ہیں اور زبردستی لانے ہیں اور زبردستی لاشوں کو باہر نکلوایا گیا کہ اس سے باقی قبرستان ناپاک ہو