خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 494 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 494

خطبات طاہر جلد ۳ 494 خطبہ جمعہ ۷ ستمبر ۱۹۸۴ء واقعات اس آرڈی نینس کے بننے سے پہلے کے ہیں۔ آرڈی نینس بننے کے بعد ان لوگوں کو قید کیا گیا جن کا علم حکومت کو ہوا ان کے اوپر مقدمے بنائے گئے اور بعض ابھی بھی ان میں سے قید میں ہیں کہ تم نے آرڈی نینس بننے سے پہلے کیوں نہیں پتہ کر لیا کہ یہ آرڈی نینس بننے والا ہے۔ یہ جرم ہے۔ السلام علیکم کہنے کے جرم میں احمدی پکڑے گئے اور قید میں بھگتنے لگے ۔ اس جرم میں کہ ہمارا مولوی کہتا ہے کہ اسکو تمہاری جان سے خطرہ ہے احمدی پکڑے گئے اور پھر ان کی ضمانتیں نہیں لی گئیں یہاں تک کہ پشاور ہائیکورٹ تک بات پہنچی ۔ یہ پھگلہ ضلع ہزارہ کا واقعہ ہے۔ تمام ضلعی عدالتوں نے انصاف دینے سے انکار کر دیا کہ اتنا بڑا جرم کہ ہمارا مولوی کہتا ہے اسکو فلاں سے خطرہ ہے اور ہم تمہیں چھوڑ دیں اور جب وہ عدالت میں ہائی کورٹ میں بالآخر ضمانت ہوئی تو انہوں نے بہت اچھی ترکیب نکالی ۔ جو مقدمہ سننے آئے ہوئے تھے ان میں سے احمدی پکڑ کر قید کر دیئے کہ اچھا جتنے چھڑواتے ہیں اتنے ہم دوبارہ پکڑ لیتے ہیں بلکہ ان کی تعداد زیادہ ہے جو بعد میں پکڑے گئے ۔ یہ انصاف کا پیمانہ ہے جس کے ذریعہ احمدیوں کو انصاف مل رہا ہے۔ باقی ملک کا جو حال ہوا ہو گا وہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیا ہے۔ اس نا انصافی میں بھی احمدی بہر حال شریک ہے کیونکہ ملک کی عام نا انصافی میں بھی احمدی حصہ دار ہے لیکن یہ زائد ہے۔ ایک اغوا کا قصہ بڑا دلچسپ قصہ چل رہا ہے ملک میں کوئی مولوی کہیں غائب ہو جائے اور کوئی یہ اعلان کر دے کہ احمدی نے اغوا کیا ہے تو جس کا نام لے گا وہ پکڑا جائے گا۔ چنانچہ بعض ایسے علما بھی پکڑے گئے بعد میں خود جن کے متعلق سارے ملک میں شور پڑ گیا کہ دیکھ لو دیکھ لو جماعت احمد یہ نے اغوا کر وا دیا ہے ایک اور مولوی اور وہ چلے تھے سکھر کے لئے تو پہنچے ہوئے تھے کوئٹہ اور جب کوئٹہ سے پکڑے گئے تو مولانا کا بیان یہ تھا کہ بس پتہ نہیں میرے دماغ کو کیا ہو گیا تھا جہاں میں نے جانا تھا وہاں اترنے کی بجائے کہیں اور چلا گیا۔ وہ اس لئے کہ وہ پکڑا گیا پتہ لگ گیا کہ کہاں پہنچا ہوا ہے ورنہ ایک اور اغوا کا کیس بننا تھا اور اب یہاں تک کہ بعض علما یہ نہیں پسند کرتے کہ ان کے بچے واقعہ نظر سے غائب ہو جائیں اب انہوں نے ایک اور ترکیب سوچی ہے کہ مثلاً مولانا منظور چینوٹی صاحب ہیں ان کا دماغ ان باتوں میں بڑا زرخیز ہے ، ان کو یہ ترکیب سوجھی کہ ایک اور لڑکے کے