خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 486
خطبات طاہر جلد ۳ 486 خطبه جمعه ۳۱ اگست ۱۹۸۴ء صلى الله دو قسم کے اختلافی امور ہیں میں اس کی وضاحت کردوں۔ جہاں دنیا کے دیگر مذاہب کا تعلق ہے ایک بھی واقعہ نہیں کہ آنحضور ﷺ نے دوسری شریعتوں میں، دوسرے کے معاملات میں ان کے مذاہب میں دخل دیا ہو۔ ہاں اسلام کا جہاں تک تعلق ہے آپ آخری فیصلہ کرنے والے تھے اور آپ کا حکم معاملات میں بھی اُسی طرح چلتا تھا جس طرح اعتقادات میں چلتا تھا اسی لئے قرآن کریم نے تنازعہ کے وقت اللہ یعنی کتاب کے بعد رسول یعنی سنت کو شامل فرما دیا۔ یہ حیثیت ہے آنحضور علی کی ۔ اس حیثیت کے بعد جہاں تک اعتقادات کا تعلق ہے اس کا شریعت اسلامیہ کے ور عروسه اندر رہتے ہوئے بھی اگر کسی کو حق ہو سکتا تھا تو خلافت کو ہو سکتا تھا اس کے سوا کسی کو حق نہیں کیونکہ خلافت ایک مرکزی حیثیت ہے جس کے ساتھ سارا عالم اسلام منسلک ہوتا ہے۔ خلافت کے بعد پھر اعتقادی امور میں کسی کا کوئی حق کسی قسم کا بھی نہیں بنتا یعنی اندرون اسلام بھی نہیں بنتا کجا یہ کہ اپنے سے باہر جا کر فیصلے دے۔ یہ ہے شرعی حیثیت عدالت کی اگر عدالت صحیح ہو اور وہ سلطان درست ہو جس نے عدالت قائم کی ہو ان شرطوں کے ساتھ اس حیثیت سے جب ہم غور کرتے ہیں تو امر واقعہ یہ ہے کہ اس کے سوا جو میں نے فیصلہ قرآن اور سنت پر مبنی اپنی رائے ظاہر کی ہے اسکے سوا کوئی صورت بن سکتی ہی نہیں ۔ عقلاً آپ زور لگا کر دیکھ لیں اس کے سوا کوئی صورت نہیں بنتی ۔ صلى الله اسلام کے دائرہ میں حضرت اقدس محمد مصطفی علی کے سوا اور خلفاء راشدین کے سوا کسی کو فیصلہ دینے کا حق بن ہی نہیں سکتا۔ جہاں تک اعتقادی اختلافات کا تعلق ہے، جہاں تک معاملاتی اختلاف کا تعلق ہے وہ فیصلے جاری رہتے ہیں اور رہے ہیں آئندہ بھی جاری رہیں گے۔ اگر فرض کریں کہ آپ یہ کہیں کہ نہیں بن سکتا ہے تو ہم پھر اس کو عملاً بنا کر دیکھتے ہیں کیسے بنے گا ؟ پھر سمجھ آجائے گی بات کی۔ اعتقادی اختلاف سے مراد ہے فرقہ وارانہ اختلاف کیونکہ فرقے اعتقاد پر بنے ہیں۔ ان کے اختلاف کے نتیجے میں بنے ہیں نہ کہ معاملات پر اس لئے ایک شیعہ فرقہ ہے، ایک بریلوی فرقہ ہے، ایک یہی سنی ہے ایک دیو بندی اور اہلحدیث اور ایک بریلوی۔ ان چاروں کو مد نظر رکھ کر دیکھیں کوئی عدالت ایسی ہو سکتی ہے شرعی جو یہ فیصلہ دے کہ شیعہ عقیدہ درست ہے اور سنی غلط ہے یا اہلحدیث کا عقیدہ درست ہے اور بریلوی غلط ہے یا اس کے برعکس بنا کر دکھایئے کوئی عدالت ایسی عدالت بن سکتی نہیں کیونکہ یا تو آپ ان میں سے کوئی ایک کو چنیں گے یعنی فیصلے کے لئے یا شیعیوں کو چن لیں گے