خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 43 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 43

خطبات طاہر جلد ۳ 43 خطبه جمعه ۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كَشَفَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كَشَفَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَفْضَحَهُ بِهَا فِي بَيْتِهِ ( سنن ابن ماجه کتاب الحدود باب الستر على المومن دفع الحدود ) جس نے اپنے مسلمان بھائی کی ستاری کی یعنی پردہ پوشی فرمائی اللہ قیامت کے دن اسکی پردہ پوشی فرمائے گا وَمَنْ كَشَفَ عَوْرَة أَخِيهِ الْمُسْلِمِ اور جس نے اسکی پردہ دری کی اللہ اس کی پردہ دری اس طرح بھی کرے گا کہ وہ اپنے ہی گھر میں ذلیل و رسوا ہو جائے۔ پھر ابی صالح حضرت ابوھریرہ سے روایت کرتے ہیں اور جامع ترمذی میں یہ حدیث آتی صلى الله ہے کہ حضرت محمد علی ﷺ نے فرمایا : مَنْ نَّفْسَ عَن مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفْسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ ( جامع الترمذى كتاب الحدود باب ما جاء في الستر على المسلم ) کہ جس کسی نے بھی اپنے مومن بھائی کے دکھ کو دنیا کے دکھوں میں سے کسی دکھ کو دور کیا اللہ آخرت میں اس کے دکھوں کو دور فرمائے گا اور جس نے اپنے مومن بھائی مسلمان کی پردہ پوشی فرمائی اللہ دنیا میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ اللہ اپنے اس بندہ کی مدد پر رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد پر تیار کھڑا رہتا ہے۔ جب تک کوئی مومن کسی مومن کی مدد کرتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس مومن بندہ کی مدد کرتا رہتا ہے جو اس کے بندوں میں سے کسی کی مدد کرتا ہے۔ ایک اور بہت ہی پیاری حدیث اس مضمون میں یہ ہے۔ ویسے تو ساری حدیثیں پیاری ہیں لیکن پیاری چیزوں میں سے بعض ذرا زیادہ پیاری لگتی ہیں اور جس صحابی سے روایت ہے اس نے بھی خاص انداز سے اسکو پوچھا ہے: عن صفوان بن محرز انَّ رَجُلاً سَأَلَ ابْنَ عَمَرَ كَيفَ سَمِعْتَ رسول الله ﷺ يَقُولُ في النجوة