خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 481
خطبات طاہر جلد ۳ 481 خطبه جمعه ۳۱ را گست ۱۹۸۴ء اختلافی مسائل میں ہو ہی نہیں سکتی۔ دنیاوی مسائل میں تو ہو سکتی ہے شرعی اختلافی مسائل میں کوئی شرعی عدالت دنیا میں قائم ہو ہی نہیں سکتی ۔ چنانچہ اس مثال سے بھی آگے میری بات واضح ہو گی ۔ بہر حال حضرت علیؓ کی طرف سے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو مقرر کیا گیا جب کہ خود حضرت علیؓ کا دل اس پر پوری طرح مطمئن نہیں تھا کیونکہ وہ حضرت ابن عباس کو اپنا نمائندہ بنانا چاہتے تھے لیکن مشکل یہ در پیش ہوئی کہ دوسرے بہت سے ساتھیوں نے کہا کہ نہیں ابوموسیٰ اشعریؓ کو ہونا چاہئے اور حضرت علی نے یہ کہا بھی کہ وہ ویسے بڑے بزرگ آدمی ہیں لیکن دماغی حالت ایسی نہیں ہے، سادہ ہیں مزاج کے اور ڈر ہے مجھے کہ وہ سادگی کی وجہ سے کہیں خواہ مخواہ قابو نہ آجائیں۔ مقابل پر عمر و بن العاص بہت ہوشیار آدمی ہیں بہر حال عمر و بن العاص دوسرے فریق کی طرف سے ثالث مقرر ہوئے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے حضرت ابو موسیٰ اشعری ۔ اب دیکھئے! کہ یہ وہ سنگم ہیں جہاں سلطانی بھی ابھری تھی اور خلافت بھی موجود تھی ۔ وہ لوگ جو سلطانیوں کی باتیں کرتے ہیں اس سے بڑا سلطان اس کو پیش نہیں کر سکتے جو صحابہ میں سے ہو اور آج تک جس کے لئے ایک بہت بھاری طبقہ دلیل ہاتھ میں ہو یا نہ ہو، حمایت میں بہت کچھ کہہ رہا ہے۔ تو سلطان میں اس سے بڑا سلطان نہیں لا سکتے اور خلافت راشدہ موجود تھی اس میں شیعوں کا بھی اتفاق ہے اور سنیوں کا بھی اتفاق ہے، ایک بھی مسلمان نہیں جو اختلاف کرے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ خلیفہ راشد نہ تھے۔ تو اگر کسی خلیفہ کو حق ہے شریعت کی عدالت بنانے کا تو حضرت علیؓ کو ضرور تھا۔ اگر کسی سلطان کو حق ہے تو اس سلطان کو ضرور تھا جو پہلا سلطان تھا اسلام میں اور پھر دونوں کا اتفاق ہو گیا ۔ اب تو کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ شرعی عدالت قائم ہو گئی اور فیصلہ یہی ہے کہ قرآن اور سنت سے فیصلہ ہوگا ۔ فیصلہ کیا ہوتا ہے اس سے پہلے وہ عہد نامہ جو لکھا جاتا ہے وہ میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں عہد نامہ کے الفاظ یہ ہیں یعنی ان کا اردو ترجمہ : وو علیؓ اور ان کی جماعت نے ابو موسیٰ اشعری کو اور معاویہ اور ان کی جماعت نے عمرو بن العاص کو حکم مقرر کیا ہے۔ یہ دونوں کسی فریق کی رو رعایت کے بغیر امت کی خیر خواہی کا لحاظ رکھتے ہوئے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے مطابق فیصلہ کریں گے“