خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 459 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 459

خطبات طاہر جلد ۳ 459 خطبه جمعه ۲۴ را گست ۱۹۸۴ء دنیا بھر میں تبلیغی ثمرات اور افضال الہی ( خطبه جمعه فرموده ۲۴ را گست ۱۹۸۴ء بمقام مسجد فضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبُ ۔ (الم نشرح: ٦-٩) اور پھر فرمایا : یہ آیات جن کی میں نے تلاوت کی ہے عموماً ان میں سے پہلی آیت یعنی فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًان کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ ہر تنگی کے بعد ایک آسائش کا زمانہ بھی ہے اور یہ ترجمہ درست ہے ۔ لیکن فَاِنَّ بَعْدَ الْعُسْرِ يُسْراً نہیں فرمایا گیا بلکہ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًان فرمایا گیا ہے کہ عسر کے ساتھ یعنی تنگی کے ساتھ ایک آسائش ہے۔ اور یہاں بعد کے لفظ کو چھوڑ کر مع کے لفظ استعمال کرنے میں ایک گہری حکمت ہے۔ ایک تو بعد میں کچھ دوری پڑ جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے عُسر کے زمانہ کے بعد ایک لمبے عرصہ کے وقفے کے بعد پھر یسر شروع ہو تو یہ جو خوف ہے کہ بعد کتنا لمبا ہو جائے گا اس خوف کو دور کرنے کے لئے مع‘ سے بہتر لفظ استعمال نہیں ہو سکتا تھا کہ تمہارے عُسر اور تمہارے یسر کے درمیان کوئی فاصلے نہیں ہیں ۔ محسر کے معا بعد بڑی تیزی کے ساتھ تم یسر کا زمانہ دیکھو گے۔ایک