خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 40

خطبات طاہر جلد ۳ 40 خطبه جمعه ۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء إِنَّ اللَّهَ عَزَوَجَل يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسِّتْرَ ( مسند احمد کتاب مسند الشامیین حدیث یعلی بن امیہ ) اللہ عز وجل حیا کو پسند فرماتا ہے، محبت کرتا ہے حیاء سے اور ستر ( پردہ پوشی ) سے محبت کرتا ہے۔ صلى الله عروسه پھر حضور اکرم ﷺ کے متعلق سنن ابی داؤد میں حضرت معاویہ روایت کرتے ہیں کہ میں صلى نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تو لوگوں کی کمزوریوں کے پیچھے پڑے گا تو تو انہیں بگاڑ دے گا یا ان میں بگاڑ کی راہ پیدا کر دے گا اس لئے عفو سے ہی کام نہ لے بلکہ ستاری سے کام لے۔ ان کی کمزوریوں کو ہوا نہ دے بلکہ ان کمزوریوں پر پردہ ڈھانپ ۔ صلى الله پھر صفوان بن یعلی کی ایک روایت ہے مسند احمد بن حنبل میں وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم علی نے فرمایا: ۔ انَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى سَعِيرٌ فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلْيَتَوَارَى بِشَيْءٍ ( سنن نسائی کتاب الغسل والتهم باب الاستثار عند النسل،مسند احمد کتاب مسند الشامین باب حدیث یعلی بن امیہ ) کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عز وجل بہت حیا کرنے والا ہے اور ستیر ہے۔ ستار کے معنی اور ستیر کے معنی ملتے تو ہیں لیکن ان کے اندر فرق ہے۔ ستر صفت مشبہ بالفعل ہے جس کا معنی ہے کہ ایک مسلسل ستر کا سلوک بغیر روک کے بغیر توڑ کے جاری وساری ہے اسکی ذات میں اور وانین کا میں نے ذکر کیا وہ بھی ستیر کی علامت ہیں کسی امر واقع پر کسی لغزش پر فعلاً خدا کا کرنا یہ ستار سے تعلق رکھنے والی بات ہے لیکن ایک جاری و ساری قانون کے طور پر بندوں کی حفاظت فرمانا اور ان کو غیر کی آنکھ سے محفوظ رکھنا یہ زیادہ تر ستیر سے تعلق رکھتا ہے۔ فرمایا کہ تم بھی صرف اپنے اندرونے کے ستر نہ ڈھانکا کر واپنے ظاہر کے ستر بھی ڈھانکا کرو۔ اور اسلام کی جتنی تعلیم بدن کو ڈھانپنا ، حیا کرنا اس مضمون میں عورتوں اور مردوں کے متعلق جو تفصیلی تعلیم ملتی ہے اس کا سب کا تعلق اللہ تعالیٰ کی صفت ستاری سے ہے یعنی بحیثیت ستیر وہ یہ احکام جاری فرماتا ہے۔ حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو چوری کے الزام میں آنحضرت ﷺ کے صلى الله صلى الله عروسه سامنے پیش کیا گیا تا کہ آپ اس کے ہاتھ کو کاٹنے کا حکم صادر فرمائیں ۔ حضور ﷺ کا چہرہ یہ حالات