خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 449 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 449

خطبات طاہر جلد ۳ 449 خطبہ جمعہ ۱۷ اگست ۱۹۸۴ء آرہی تو کیا اسلام یہ کہے گا کہ تم ان دو باتوں کو بھی نہیں مان سکتے کیونکہ تم حشر نشر کے قائل نہیں اور اگر اُن کو یہ سمجھ آجائے کہ قرآن کریم جو سچ کی تعلیم دے رہا ہے، بدیوں سے بچنے کا حکم دے رہا بدایوں سے بچنے کا علم و ہے، عبادت کا حکم دے رہا ہے یہ طریق بالکل ٹھیک ہے اس پر تو ہمیں عمل کرنا چاہئے لیکن روزوں کی کا حکم دے رہا ہے یہ ٹھی ہے اس پرتو ہمیں عمل کرنا لیکن کی ہمیں سمجھ نہیں آتی تو کیا قرآن کریم روک دے گا اسکو نماز پڑھنے سے بھی؟ اور اکثر ایسے مسلمان ہیں جو ایک حصہ کرتے ہیں قرآن کریم پر عمل اور دوسرے حصے پر نہیں کرتے تو ان کی پھر کیا حیثیت رہ جائے گی ؟ تو بہر حال بنیادی بات قابل بحث یہ تھی کہ قرآن کریم کے کسی حصہ پر اگر کسی کو ایمان ہو جائے تو کیا شریعت اسلامیہ کسی انسان کو یہ حق دیتی ہے کہ جس حصے پر کوئی شخص ایمان لاتا ہو اس پر عمل سے روک دے؟ اتنی سی بات ہے ساری ۔ ہمارے معاملہ میں جو انہوں نے طریق اختیار کیا وہ بالکل بر عکس اختیار کیا ہے۔ انہوں نے یہ طریق اختیار کیا کہ پہلے ہمارا نام کچھ اور رکھا مثلاً کسی چمن کو کوئی صحرا کہہ دے کہ ہم نے نام رکھ دیا ہے۔ پہلے نام رکھا پھر کہا کہہ جب صحرا ہم کہہ رہے ہیں تو بوٹوں کا کیا کام ہے یہاں پھلدار درختوں اور پھولدار درختوں کا کیا مطلب؟ ان کیاریوں کے کیا معنی یہاں پانی دینے کا کیا مطلب؟ نکالو سارے درخت پودے بوٹے گھاس واس سب بکواس ہے کیونکہ ہم جب صحرا کہہ رہے ہیں تو اس کو صحرا ہونا چاہئے ۔ تو پہلے نام رکھا غیر مسلم اور یہ بھی بڑی جہالت ہے۔ غیر مسلم تو کوئی نام ہی نہیں ہے مذہب کا ۔ غیر مسلم جب کہہ دیا جائے تو جب تک کسی مذہب کی تعین نہ ہو یہ نہیں پتہ لگ سکتا کہ کس کے کھاتہ میں پڑیں گے اور چونکہ ان کے اڈعا کے برخلاف ہے اس لئے سوائے اس کے آپ کے لئے چارہ کوئی نہیں کہہ دیا تو کہیں کہ ہم غیر مسلم کہہ دیں گے لیکن تمہاری مرضی جو مرضی کرو، جو مذہب اپنے لئے عملاً سمجھو ٹھیک ہے لیکن ہم تمہیں غیر مسلم سمجھتے رہیں گے یہ تو معقول بات ہوئی یا پھر یہ کہیں کہ چونکہ ہم تمہیں غیر مسلم کہتے ہیں اس لئے اسلام کے کسی حکم پر تمہیں عمل نہیں کرنے دیں گے۔ یہ وہ جہالت ہے جو انہوں نے اختیار کی ہے۔ پھر تیسری شکل یہ بنتی تھی کہ اچھا! غیر مسلم بھی ہمیں کہہ دیا اور اسلام پر عمل بھی نہیں کرنے دینا تو اب پھر ہماری شریعت کوئی بنائے گا یا نہیں؟ وہ کہتے ہیں جو مرضی بنالو یعنی گویا انسان شریعت بنائے خود یہ بھی بڑی جہالت کی بات ہے جو مرضی کسی طرح بنالو۔ شریعت تو وہ ہوتی ہے جو خدا بناتا ہے اس