خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 439 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 439

خطبات طاہر جلد ۳ 439 خطبه جمعه ۱۰ اگست ۱۹۸۴ء اگر تو ان مخالفتوں کے نتیجے میں جماعت کے اندر کمزوری آجاتی ، اگر تو ان مخالفتوں کے نتیجے میں احمدیت پھیلنا بند ہو جاتی ، احمدیت کی طاقت میں کمی آجاتی تو پھر یہ خطرہ برحق تھا کہ اے خدا ! بس کر اب تو مارے گئے جس دین کے لئے ہم قربانیاں دے رہے ہیں وہ دین مٹتا چلا جا رہا ہے لیکن یہ بات تو نہیں ہے بالکل برعکس نتیجے پیدا ہو رہے ہیں اس لئے دکھ کا معاملہ تو درست ہے کہ بعض دفعہ دکھ نا قابل برداشت نظر آنے لگتا ہے لیکن دکھ کے نتیجے میں ہلاکت بہر حال نہیں ہے اس لئے دیر بھی ہوگئی تو جماعت آگے ہی بڑھے گی جس جماعت کے مقدر میں بہر حال آگے بڑھنا ہے اس کے لئے خوف کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوا کرتا ۔ وہ لوگ جو قربانیاں کر رہے ہیں جو واقعی اس وقت جماعت کی نمائندگی کر رہے ہیں دکھ اٹھانے میں اُن کے حوصلے تو خدا کے فضل سے کم نہیں ہوئے ۔ چنانچہ بعض ایسے ہی حوصلہ مند نو جوانوں کے ذکر میں ربوہ کی ایک بچی مجھے لکھتی ہیں کہ میں اپنے بڑے بھائیوں سے اکثر سنتی تھی کہ حضرت مسیح موعود کے افراد دور سے پہچان لئے جاتے ہیں یہ سن کر میں بہت حیران ہوتی تھی کہ شکلیں تو انسان کی ایک جیسی ہیں پھر یہ کیا کہتے ہیں مگر آج خود ہی اندازا ہو گیا۔ میں آج تقریبا 10 بجے اپنی بھتیجی کے ساتھ گولباز ارسبزی لینے گئی مسجد مہدی کے ساتھ پکی سڑک جواڑے والی ہے اڈے کی طرف سے دولڑکوں کو ہتھ کڑیاں لگی ہوئی دیکھیں اور پانچ یا چھ پولیس مین ساتھ ہیں عدالت کی طرف جا رہے ہیں میں نے بھی ادھر ہی جانا تھا پردہ میں زیادہ تو نظر نہ آیا لیکن جتنا بھی نظر آیا میں نے دیکھا کہ وہ لڑ کے مجھے بڑے عزم حو صلے اور شریفانہ انداز میں چلتے ہوئے نظر آئے ۔ میرے دل میں خیال آیا کہ ہو نہ ہو یہ لڑکے تو احمدی ہیں ساتھ خوف کا دھڑ کا بھی لگ گیا ، پھر آگے چلتے گئے سڑک کے دونوں طرف چلنے والے مسافر کیا عورتیں کیا مرد کیا بچے سارے ذرا سا رکتے تھے کچھ کہتے اور پھر نہ جانے دل میں کیا کیا دعائیں کرتے ہوئے آگے گزرتے جاتے تھے۔ عدالت کے قریب جاتے جاتے تو بے شمار لوگ اکٹھے ہو گئے مجھ سے رہا نہ گیا میں نے ایک آدمی سے پوچھ ہی لیا کہ یہ دونوں خدام ہمارے وہ احمدی تو نہیں جن کے متعلق سنا گیا تھا کہ ان کو بڑی تکلیفیں دی گئی ہیں تو کہنے لگا جی ہاں باجی وہی ہیں میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے اور میں ان کے لئے دعا کرنے لگی کہ یہ تو مسیح موعود کی پاک جماعت کے ہونہار، صابر ، حوصلہ مند خدام ہیں ۔ یہ تو لاکھوں کروڑوں میں پہچانے جاتے ہیں صرف اس لئے کہ وہ حضور رسول اکریم ﷺ کے غلام عاشق صادق کے غلام ہیں اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ صلى الله