خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 414 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 414

خطبات طاہر جلد ۳ 414 خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۸۴ء غلامی سے روک رہی ہے نہ قرآن پر عمل کرنے سے منع کیا جارہا ہے بلکہ قدر مشترک کہہ کہہ کے غیروں کو بلایا جا رہا ہے تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ (آل عمران : ۶۵) کہ اے اہل کتاب ہم تو قدر مشترک کی طرف بلانے والے لوگ ہیں جو تم مانتے ہو ہماری باتیں وہ تو اختیار کر لو جن میں اختلاف رکھتے ہو تمہارا حق ہے جو چاہو اختلاف کرو لیکن جو تم اپنے منہ سے کہتے ہو کہ ہاں یہ تمہاری باتیں اچھی ہیں وہ کیوں اختیار نہیں کرتے ۔ کیسا عظیم الشان مذہب ہے ! ساری دنیا کو اشتراک کی دعوت دے رہا ہے۔ اس مذہب کا حلیہ بگاڑ کر یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ قدراشتراک پسند نہیں صلى الله ۔ d کرتا۔ غصہ آجاتا ہے اگر کوئی حضور اکرم ﷺ کی غلامی اختیار کرے اور آپ کے پیچھے چلے۔ جو آیات میں نے آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی تھیں ان میں یہی مضمون ہے۔ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةً لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًاہ کہ اے لوگو! تمہارے لئے اللہ کے رسول یعنی محمد مصطفی علا ل میں ایک بہت ہی حسین اسوہ بنایا گیا ہے ایک ایسا خوبصورت نمونہ رکھ دیا گیا ہے کہ اب جو کوئی بھی اللہ کو چاہتا ہے وہ اس اسوہ کی پیروی کرے اور جو یوم آخر کی خواہش رکھتا ہے کہ یوم آخر میں وہ نجات دہندہ شمار ہو اس کو بھی یہی چاہئے کہ وہ اس اسوہ کی پیروی کرے۔ یہاں تو آنحضور ﷺ کے اسوہ کی پیروی کے لئے نہ مسلمان ہونا شرط قرار دیا گیا ، نہ کسی فرقے کی شرط رکھی گئی۔ ایک چیز مذہب کی قدر مشترک جو ہے وہ بیان فرمائی گئی ہے۔ کیسا عظیم کلام ہے! کوئی پہلو نہیں چھوڑ تا خیر کا۔ فرمایا مَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ جو اللہ کو چاہتا ہے اور یوم آخر چاہتا ہے اس کے لئے چارہ نہیں ہے اسکے سوا کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی پیروی کرے۔ تو جب تک یہ قانون نہ بنائیں کہ اللہ کو چاہنا جرم ہے اور یوم آخرت میں اپنی نجات پانا نجات ڈھونڈ نا جرم ہے۔ جب تک یہ دو قانون Percieve نہ کریں پہلے نہ بنائے جائیں اس وقت تک حضرت محمد مصطفی ﷺ کی غلامی سے کوئی روک ہی نہیں سکتا کسی کو۔ تو آیات پر تبر رکھ کر آپ جو چاہیں کریں لیکن ہماری گردنیں کاٹنے سے پہلے آیات کی گردنیں کاٹنی پڑیں گی ۔ قرآن کریم میں کتر بیونت ( قطع و برید ) کرنے پڑے گی۔ کیونکہ اتنی کھلی کھلی کتاب ہے ، اتنا واضح کر دیتی ہے اپنے مضمون کو کہ کوئی بھی شک کی گنجائش باقی نہیں چھوڑتی۔ پھر فرماتا ہے ان لوگوں کا ذکر صلى الله عروسه