خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 404
خطبات طاہر جلد ۳ 404 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء طور پر پیش کرتے ہیں کہ نظریاتی مملکت میں اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ چونکہ یہ اس کے پس منظر میں بعض بڑی طاقتیں کام کر رہی ہیں ، مذاہب سے کھیل رہی ہیں اس لئے ان کی انٹیلی جینس کے بنائے ہوئے محاورے ہیں یہ سراسر اس سے زیادہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بہر حال اس اصول کو اگر تسلیم کر لیا جائے تو یہ تسلیم کئے بغیر یہ اصول تسلیم ہو ہی نہیں سکتا کہ انسان کو حق ہے کہ جس بار جس بات کو حق سمجھے اور یقین کرے اگر اس کا زور چلے تو اس کے برعکس بات سننے سے بھی انکار کر دے اور سنوانے کی اجازت بھی نہ دے کسی کو، سنانے کی اجازت بھی نہ دے اور کسی کو سننے کی بھی اجازت نہ دے۔ یہ بنیادی حق جب تک انسان کا تسلیم نہ ہو کسی مذہب کو اس کے اختیار کرنے کی اجازت دی نہیں جاسکتی ۔ تو جب آپ تسلیم کر لیں گے تو وہاں تو تبلیغ اسلام اس طرح بند ہو گئی ملک میں کہ اگلے بیچارے کو بولنے کی اجازت نہیں ۔ وہ بولے گا تو مار کھائے گا نہ بولے گا تو ایمان گنوائے گا۔ اس بیچارے کے لئے تو نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن ، کوئی صورت ہی نہیں رہتی سوائے اس کے کہ دل ہی دل میں مذہب سے متنفر ہونا شروع ہو جائے اور کہے کہ سارا قصہ ہی بکواس ہے یہ ظلم اور خدا کے نام پر اہم کیسے یہ مان سکتے ہیں۔ تو وہاں تو نا کام ہوگیا یہ اور غیر مالک کا جہاں تک تعلق ہے وہ اس حق کو استعمال کریں گے۔ اور چنانچہ ہندوستان ہے وہاں ہندو اکثریت ہے اور وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کو بالکل باطل سمجھتے ہیں اور ان کی کتاب کی تعلیم ہماری کتاب کی تعلیم سے مختلف ہے۔ وہ بگڑی ہوئی تعلیم جو انہوں نے ورثے میں پائی ہے اس کی رو سے تو ہر غیر کو انتہائی ظالمانہ تکلیفیں دے ا کر ختم کرنا عین ثواب ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ اس کو اپنا لیا گیا ہے وہاں سے اور اختیار کیا جا رہا ہے لیکن میں قرآن کا مقابلہ کر رہا ہوں۔ اگر چہ آج کل بعض مسلمان کہلانے والوں نے بھی یہ ہندو تعلیم اپنالی ہے لیکن قرآن میں اس کا ذکر نہیں اس لئے جب میں کہتا ہوں کہ قرآن کے مقابلے پر ان کی یہ ظالمانہ تعلیم ہے تو بالکل درست کہہ رہا ہوں بہر حال ان کو حق ہے اور اگر وہ اس حق کو استعمال کریں تو چند لاکھ، چند نفوس کو تباہ و برباد کرنے کے نتیجے میں چودہ کروڑ مسلمانوں کے لئے ہلاکت کے سامان پیدا کر لیں گے اور جائز حق دے دو گے بظاہر ایک قوم کو ۔ بعینہ یہی سوال جو 1953ء کی تحقیقاتی عدالت تھی اس میں جسٹس منیر نے مولانا مودودی