خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 399 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 399

خطبات طاہر جلد ۳ 399 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء بتاؤ کہ یہ دستور بدلا کب ہے کہ حق نے وہ ساری باتیں اختیار کر لی ہوں جس پر لعنتیں ڈالتا آیا تھا اور باطل کے ذمہ وہ ساری خوشنودیاں لگا دی ہوں وہ اچھے دستور لگا دیئے ہوں جس کی قرآن کریم تعریف کرتا چلا آیا تھا کہ بڑے صبر اور حوصلے سے انہوں نے ان باتوں کو برداشت کیا۔ وہی بات ہے کہ پر ترے عہد سے آگے تو یہ دستور نہ تھا (فیض) ۔ اور پرانی قو میں قیامت کے دن خدا کو مخاطب کر کے کہ کیا یہ نہیں کہیں گی کہ اے خدا! تیرے قرآن میں جو سب سے اعلیٰ کتاب بیان کی گئی ، سب سے کامل کتاب اسے کہا گیا ، اس نے تاریخ میں ہمارا ذکر کیا اور ان دو عقیدوں کی بنا پر ہم پر لعنتیں ڈالیں اور پھر کیا واقعہ ہو گیا کہ نعوذ باللہ من ذالک سید ولد آدم کے مذہب کو تو نے خود و بیاہی بنا دیا ہے جس پر تو لعنتیں ڈالتا چلا آرہا ہے اس سے بڑا ظالمانہ الزام حضور اقدس ﷺ کے ا پاک مذہب پر نہیں لگایا جا سکتا۔ اس لئے دل آزاری ہماری ہوتی ہے نہ کہ ان کی تبلیغ سے دل آزاری کی کوئی سند قرآن کریم میں موجود نہیں لیکن یہ ظالمانہ فعل کہ سید ولد آدم جس کا مذہب سب سے زیادہ پاک، سب سے زیادہ حسین جو رحمتہ للعالمین ہو اور اس کا مذہب بھی تمام رحمت ہی رحمت ہو اس پر یہ الزام کہ اس نے از خود سارے زمانے کے دستور کو بدل کر مکروہ چیزیں نعوذ باللہ اپنے پہلے میں رکھ لیں اور جو حسین چیزیں تھیں وہ دشمن کے ہاتھ میں پکڑا دیں اتنا جاہلانہ تصور نا ممکن ہے کہ آنحضور ﷺ کے ساتھ سچی محبت ہو اور پھر بھی کوئی اختیار کر جائے ۔ جہالت کی بھی تو کوئی حد ہونی چاہئے۔ لیکن یہ بھی نہیں سوچتے کہ قرآن کریم ان معنوں میں بھی کامل کتاب ہے کہ جو وہ تعلیم دیتی ہے اس کے برعکس پر عمل ممکن ہی نہیں ہے یعنی اختیار کی بات نہیں رہتی انسان کے لئے ۔ رشد اس کو کہتے ہیں کہ ایسی تعلیم جس کا انکار کرنے کی تو تمہیں اجازت ہوگی لیکن جب تم اس پر عمل کرنے لگو گے تو بے بس پاؤ گے اپنے آپ کو، بے اختیار ہو جاؤ گے اور کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ چنانچہ دیکھئے مقتل مرتد کے عقیدے کے نتیجے میں کیا نتیجہ پیدا ہوتا ہے؟ بالکل برعکس نتیجہ ان مقاصد کے برعکس پیدا ہوتا ہے جن مقاصد کے نام پر قتل مرتد کا عقیدہ جاری کیا گیا یعنی اس لئے کہا گیا قتل مرتد جائز ہے کہ حق کی حفاظت کی جائے اور جھوٹ کو اور باطل کو اپنی سوسائٹی سے باہر نکال کے پھینک دیا جائے ۔ یہ دعوی ہے ، اگر یہ دعوی سچا ہے تو قتل مرتد کے عقیدے پر عمل کر کے دیکھئے کہ نتیجہ کیا