خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 381 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 381

خطبات طاہر جلد ۳ 381 خطبہ جمعہ ۲۰ جولائی ۱۹۸۴ء صل الله دیا حکماً یعنی منافق بھی منافقوں کا سردار اور اتنے خوفناک جرم کا وہ مرتکب ہو گیا ہو کہ دنیا کے سب سے معزز انسان کو دنیا کا سب سے ذلیل انسان کہہ رہا ہو اور حضرت اقدس محمد مصطفی علی کا ردعم عمل اس دل آزاری پر یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ صحابہ کو منع فرمایا بلکہ جب اس کا اپنا بیٹا جو ایک سچا مسلمان تھا وہ غیرت میں یہ بات برداشت نہیں کر سکا ، اس نے اجازت چاہی کہ یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں میں اس باپ کا سر قلم کرتا ہوں تو آپ نے فرمایا تمہیں بھی اس بات کی اجازت نہیں ۔ ( بخاری کتاب التفسیر باب قولہ تعالیٰ ذالک با نهم آمنوا ثم كفروا ) شاید اس کے دل میں یہ خیال آیا ہو کہ باقی لوگوں کو اگر اجازت دی تو شاید رسول اللہ ﷺ کو میرا خیال ہو میرے جذبات کا کہ بیٹا تو مخلص ہے اس کے دل کو تکلیف نہ پہنچے کہ کوئی اور اس کے باپ کو قتل کر رہا ہے۔ کیسا عظیم نمونہ وہ دکھاتا ہے! خود حاضر ہوتا ہے اور کہتا ہے یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں ۔ آپ نے فرمایا نہیں لیکن وہ ایسا تڑپ رہا تھا ایسا بے قرار تھا کہ جب مدینہ میں داخل ہونے کا وقت آیا تو آگے جا کر رستہ روک کر کھڑا ہو گیا اپنے باپ کا ، اس نے کہا خدا کی قسم میں تمہیں نہیں داخل ہونے دوں گا اس شہر میں جب تک یہاں یہ اعلان نہ کرو کہ تم دنیا کے سب سے ذلیل انسان ہو اور محمد صلى صلى الله عليه و صلى الله مصطفی ﷺ دنیا کے سب سے معزز انسان ہیں ۔ اس نے یہ اعلان کیا اور پھر اس کو مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ تو جو منافقوں کا سردار تھا وہ مسلسل اپنے آپ کو مسلمان کہتا رہا اور آنحضرت ﷺ کی یہ خواہش رہی کہ میں خود اس کا جنازہ پڑھوں ۔ ( بخاری کتاب التفسير باب قوله تعالى استغفر لهم ولا تستغفر لهم ) یه صلى الله علی کے متعلق ۔ ہے اسوہ محمد مصطفی ، یہ ہے قرآن کریم کی تعلیم منافقین کے متع اب کوئی نیا قرآن نازل ہو رہا ہے پاکستان کے اوپر کہ جہاں نئی تعلیمات جاری کی جائیں گی منافقین کے بارے میں اور پھر یہ بھی پتا نہیں کہ منافق ہے کون؟ تم منافق ہو یا وہ منافق ہیں جن میں پھر یہ پتا یا ہے کے متعلق تم کہہ رہے ہو کہ یہ منافق ہیں ۔ اس کا فتوی کون صادر کرے گا ؟ تم کہتے ہو ہمیں کہ تم منافق ہو اسی منہ سے ہم کہہ دیتے ہیں تم منافق ہو۔ فیصلہ کون کرے گا منافقت کا؟ منافقت کا فیصلہ تو خدا کے سوا کر کوئی نہیں سکتا اور خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ جب میں فیصلہ کردوں تب بھی تمہارا کام نہیں ہے کہ صل صلى الله یہ میرا کام ہے زبردستی کروں یا نہ کروں۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کے متعلق فرمایا: لا إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرُهُ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُضَيْطِرٍ (القافية :۲۲ ۲۳) کہ اے محمد اللہ سب دنیا کا سردار ہے تو لیکن تجھے داروغہ نہیں بنایا صرف نصیحت کرنے