خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 377
خطبات طاہر جلد ۳ 377 خطبه جمعه ۲۰ جولائی ۱۹۸۴ء ہے اور جوابی کاروائی کو بند کر دیا گیا۔ تو جتنی خوشی اس پہلو سے ہو سکتی تھی کہ ایک جواب کا موقع پاکستان میں میسر آجائے گا وہ خوشی تو ساتھ ہی اس طریق کار نے زائل کر دی لیکن جہاں تک غیر دنیا کا تعلق ہے ، خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس کا موقع تو بہر حال میسر آئے گا۔ کہاں کہاں حکومت پاکستان کا قانون احمدیوں کی زبان بندی کرے گا آخر آزاد دنیا وسیع پڑی ہے، وہاں سے آواز اٹھ سکتی ہے،اٹھے گی، پھیلے گی اور جہاں جہاں انھوں نے یہ تقسیم کرایا ہے اس سے زیادہ کثرت کے ساتھ انشاء اللہ تعالیٰ اس کے نقطہ بہ نقطہ جوابات تیار کر کے تقسیم کئے جائیں گے۔ کچھ تو میں اپنے خطبات میں بھی بیان کروں گا تا کہ وہ لوگ جنہیں پڑھنے کا زیادہ موقع میسر نہیں آتا اور خطبے ضرور سنتے ہیں ان تک بھی بات پہنچ جائے اور اس طرح احمد یوں کو اپنے دفاع میں کچھ ہتھیار میسر آجائیں ۔ ان پڑھ احمدی بھی جب خطبہ غور سے سنتا ہے تو کافی حد تک سمجھ جاتا ہے بات کو اس لئے ان کے لئے ایک اچھا موقع مل جائے گا اور چونکہ لمبا بھی ہوا تو ہو سکتا ہے اور خطبات دوسرے مقاصد کے لئے بھی استعمال کرنے ہوتے ہیں اس لئے اگر کچھ حصہ رہ جائے بیچ میں سے تو وہ ویسے بھی پمفلٹ کی صورت میں چھپوا نا ہی تھا ، وہ چھپوایا جائے گا اور سب تک وہ پہنچ جائے گا اس لئے کوئی خلا نہیں رہے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ جہاں تک غیر مسلم دنیا کا تعلق ہے ان کے سامنے جو انہوں نے موقف اختیار کئے ہیں وہ بھی سراسر جھوٹ اور غیر منطقی اور نہایت لغو موقف ہیں۔ ان کے متعلق جہاں جہاں اطلاع ملتی ہے ہم ب بتاتے ہیں اور زیادہ دیر تک تو کسی کو دھوکے میں رکھا نہیں جاسکتا۔ ان کے موقف کی ایک مثال یہ ہے جو نیوز ویک میں شائع ہوئی کہ ایک بڑے پاکستان کے افسر نے اپنے جواز میں یہ بات پیش کی کہ دیکھو یہ تو بڑی منطقی بات ہے کہ غیر مسلموں کو کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ مسلمانوں کا بھیس اوڑھ کر بھیس بدل کر مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر وہ لوگوں کو دھوکا دے کہ وہ مسلمان ہیں ، آخر حکومت کا فرض ہے کہ دھو کے بازوں کو پکڑے اور ان کے خلاف کاروائی کرے۔ تو یہ ایک منطقی دلیل انہوں نے قائم کی غیر دنیا کے لئے جن کو قرآن اور سنت سے تو غرض کوئی نہیں ہے نہ ان کو یہ پتا ہے کہ کوئی غیر مسلم حقیقت میں ہے بھی کہ نہیں لیکن ان کے سامنے اتنی سی بات رکھ دی گئی کہ ہماری حکومت نے فیصلہ کر لیا اور ایک اسمبلی کا حوالہ دیا گیا کہ فلاں اسمبلی نے یہ