خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 308 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 308

خطبات طاہر جلد ۳ 308 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۸۴ء چنانچہ پاکستان سے اور ساری دنیا سے جو خبریں آرہی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ غیر معمولی طور پر تبلیغ کا رحجان بڑھ گیا ہے اور بکثرت بیعتیں شروع ہوگئی ہیں اور ایسی ایسی باتوں پر حیرت انگیز طریق پر بیعتیں ہو رہی ہیں کہ انسان پہلے سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اس ابتلا کے وقت جب مار پڑ رہی ہو کسی کا ایسی جماعت میں داخل ہونا لازماً اس کی سچائی کی نشانی ہے۔ جب ہار پڑ رہے ہوں اور شیرینیاں تقسیم ہو رہی ہوں اور دعو اور دعوتیں ہو رہی ہوں اس وقت تو گندے تو گندے لوگ جایا کرتے ہیں اس طرف۔ تو بعینہ یہ دو نظارے پاکستان میں عجیب شان کے ساتھ منظر پر ابھرے ہیں۔ ایک طرف جماعت کے کمزور اور نکمے اور فضول بعض ان : ں ان میں سے ، وہ بھی زیادہ نہیں ہیں بہت تھوڑے ۔ ہیں ، اس حال میں جاتے ہیں غیروں کی طرف کہ دیکھیں بٹ رہی ہوتی ہیں اور پھولوں کے ہار پڑ رہے ہوتے ہیں اور مٹھائیاں تقسیم ہو رہی ہوتی ہیں اور وہ ان کے کئی دن کے دعوتوں کے سامان ہو جاتے ہیں اور ان سے بہت زیادہ تعداد میں ایسی جماعت میں اس وقت پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں جو ماریں کھا کر داخل ہو رہے ہوتے ہیں ، جو گالیاں کھا کر داخل ہو رہے ہوتے ہیں ، جو اپنے گھر لٹا کر داخل ہو رہے ہوتے ہیں ، جو اپنی بیویوں کو چھوڑ کر داخل ہوتے ہیں ، جو اپنے بچوں کی جدائی قبول کر کے داخل ہوتے ہیں۔ ایسے داخل ہو رہے ہیں جن کے ماں باپ مار مار کر اپنے بچوں کے حلیے بگاڑ دیتے ہیں اور بالکل بے زر اور بے زور کر کے گھروں سے نکال کے باہر پھینک دیتے ہیں۔ چنانچہ اس کی بھی بڑی عجیب مثالیں سامنے آرہی ہیں۔ چنانچہ ایک ہی جگہ جہاں شدید مخالفت ہوئی اور دو تین لوگوں کے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جس قماش کے وہ تھے اس قماش کے تھے، ان کے ارتداد کی خبریں آئیں اور بغیر کسی تبلیغ کے نو افراد نے اسی دن آ کر بیعت کی اور بڑی کثرت کے ساتھ اب وہ مسجد میں آکر گریہ وزاری کے ساتھ جماعت کی نمازوں میں شامل ہو رہے ہیں اور عجیب و غریب خدا سامان پیدا کر رہا ہے۔ کل کی رپورٹوں میں یہ بھی معلوم ہوا کہ بی بی سی کا انٹرویوسن کر مختلف جگہوں میں جہاں پیغام ہی کبھی نہیں پہنچا تھا احمدیت کا، وہاں سے لوگ آئے جماعت سے ملے اور انہوں نے کہا ہم نے سن کر فیصلہ کر لیا ہے کہ یہ جماعت سچی ہے اس لئے ہماری بیعت قبول کرو۔ دو یا چار یا پانچ یا دس گندے نکل رہے ہوں اور سویا ہزار خدا کے فضل سے نیک اور صاحب عزم لوگ داخل ہو رہے ہوں قربانیوں کا فیصلہ کرتے ہوئے ، اپنی سچائی کو