خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 282 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 282

خطبات طاہر جلد ۳ 282 خطبه جمعه ارجون ۱۹۸۴ء پر انہوں نے ظلم کیا جو ان کے اپنے کہلاتے تھے، جن کے ہاتھ میں انہوں نے اپنی امامت کی زمام دے رکھی تھی ، جن کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چلنے کا عہد کر بیٹھے تھے کیونکہ آج وہاں دو قسم کے روزے رکھے جارہے ہیں ایک وہ روزے ہیں جو اذانوں سے محروم ہیں ، نہ سحری کے وقت ان بے قرار کانوں کو اذان کی آواز سنائی دیتی ہے نہ افطاری کے وقت دکھے ہوئے دلوں پر اذان کی آواز مرہم لگاتی ہے۔ اس قدر درد سے تڑپ رہا ہے آج وہاں کا احمدی کہ باہر کی دنیا والے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ پاکستان میں نے کچھ عرصہ ہوا فون کیا ، بڑی شدید گرمی پڑ رہی ہے لیکن گرمی کا دکھ ان کو اتنا نہیں تھا جتنا اس بات کا دکھ تھا کہ رمضان کی لذتیں ہم سے چھیننے کی کوشش کی گئی لیکن اس کے مقابل پر ان کے دل کو یہ تو تسلی ہے کہ آج اگر کسی جماعت کے دنیا میں روزے قبول ہو رہے ہیں ، اگر خدا کی نظر اپنے کسی بندے پر پیار اور محبت کے ساتھ پڑ رہی ہے تو یہ وہ لوگ ہیں اور لاکھوں کروڑوں ایسے ہوں گے جو شریک جرم ہونے کی وجہ سے اپنی نیکیوں کے پھل سے محروم ہوئے بیٹھے ہیں کیونکہ آنحضرت رت علی عليه ایسے ، روزے داروں کو ان روزوں سے ڈراتے ہیں جو ان کے لئے محض مشقت اور دکھ اور مصیبت لے کر آتے ہیں لیکن نیتوں کے بگاڑ کے باعث ان میں کوئی ثواب کا پہلو باقی نہیں رہتا۔ ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ نہیں بیسیوں مرتبہ آنحضور ﷺ نے ایسے روزہ رکھنے والوں کو متنبہ فرمایا اور نصیحت فرمائی کہ دیکھو اپنے روزوں کی روح کی حفاظت کرو۔ اللہ تمہاری ظاہری مشقت سے خوش نہیں ہوگا اگر تمہاری نیتیں صاف اور پاک نہ ہوئیں ۔ اگر خالصتہ اللہ تم نے روزے نہ رکھے، اگر ان روزوں کے ایام میں تم نے بد خیالات اور بداعمال سے اجتناب نہ کیا تو تمہارے روزے کی ساری مشقتیں بیکار جائیں گی، تمہارے جسم کو دکھ تو دیں گے لیکن تمہاری روح کے لئے کوئی تسکین کا سامان پیدا نہیں کر سکیں گی۔ صلى الله صلى الله تو بظاہر اس وقت جماعت احمدیہ کی حالت درد ناک ہے اور بڑے کرب کے ساتھ جماعت پاکستان میں تڑپ رہی ہے اور اس کرب کے نتیجہ میں باہر کی جماعت بھی اسی طرح بے قرار ہے اور دکھ سے بے حال ہوئی جاتی ہے لیکن اگر امر واقعہ دیکھا جائے تو سب سے زیادہ دردناک حالت ان کی ہے جو آج شادیانے بجا رہے ہیں۔ ان کی ساری محنتیں ، ان کی ساری مشقتیں ، سب کچھ بیکار گئیں اور ان کی سزا ابھی باقی ہے۔ یہ جو دور ہے یہ سزا کا دور نہیں ہے یہ ایک طبعی نتیجہ ہے لیکن سزا کا