خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 278 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 278

خطبات طاہر جلد ۳ 278 خطبه جمعه ۲۵ رمئی ۱۹۸۴ء احمدی بھائیوں کی مددیں کی ۔ بڑے بڑے خطرات مول لئے ہیں، اپنے گھروں میں بلا لیا ہے جلتے ہوئے گھروں سے نکالا ہے ان کو ، تو کس طرح قوم کے خلاف آپ بد دعا کر سکتے ہیں سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرف منسوب ہونے والی قوم اگر شرارت اور فساد میں بالا رادہ نہ ہو تو اس کی بھاری اکثریت گر کے بھی ، بظاہر مٹنے کے باوجود بھی بہت ہی عظیم قوم ہے، بہت ہی عظیم ملت ہے۔ اس کے اندر گہری صفات اصفات ہیں، صفات حسنہ جو دب تو گئیں ہیں لیکن ختم نہیں ہوئیں اس لئے پاکستان کے عوام کو ہرگز دعاؤں میں نہیں بھولنا ، عالم اسلام کے عوام کو ہرگز دعاؤں میں نہیں بھولنا، عرب کے عوام کو دعاؤں میں نہیں بھولنا، ہندوستان کے مسلمان عوام کو دعاؤں میں نہیں بھولنا۔ کتنا بڑا ظلم ہو رہا ہے ان کے اوپر ، وہ ظلم بھی ہمارے سینوں پر ہورہا ہے، کوئی آواز نہیں اٹھتی ۔ اتنی بڑی بڑی طاقتیں ہیں مسلمان ممالک کی ، عالم اسلام کی محبت کے قصے سوائے احمدیت کی دشمنی کے کچھ بھی نہیں رہے۔ دس کروڑ کی آبادی ہے ہندوستان میں جس کے اوپر ایسے مظالم ہور ہے ہیں جیسے حیثیت ہی کوئی نہیں۔ بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح ہو رہے ہیں ، زندہ مکانوں میں جلائے جا رہے ہیں اور کوئی ٹس سے مس نہیں ہورہا۔ اسلام کو کوئی خطرہ نہیں عالم اسلام کو کوئی خطرہ نہیں۔ حد سے زیادہ جرائم ہو رہے ہیں، حد سے زیادہ رشوت ستانیاں اور کئی قسم کی بدیاں ہیں جو پھیلتی چلی جارہی ہیں۔ ان سے کوئی عالم اسلام کو خطرہ نظر نہیں آتا اور ان کا دکھ بھی ہمارے ہی سینے پر ہے اس لئے دعاؤں کا معیار بڑھا دیں اور اپنی گردنیں جھکانے کی اور بھی زیادہ کوشش کریں ، ماتھے رگڑیں خدا کے حضور اور عرض کریں کہ اے خدا! آج تو اپنوں کا دکھ بھی ہمارا ہے اور غیروں کا دکھ بھی ہمارا ہے اس سے زیادہ بھی مظلوم حالت کسی قوم کی ہو سکتی ہے؟ ہم ان کے لئے بھی تڑپ رہے ہیں جن پر مظالم ہور ہے ہیں اور ان کے لئے بھی بے قرار ہیں جن کو مظالم کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے لاعلمی کے نتیجے میں ۔ ہر فتم کا دکھ آج عالم اسلام کا اور عالم انسانیت کا ہمارے سینوں میں اکھٹا ہو گیا ہے اے خدا ! صرف تیری خاطر اس کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں ، کوئی وجہ نہیں ، کوئی لالچ نہیں، کوئی حرص نہیں ، صرف تیری رضا چاہتے ہیں اس لئے اب تو رحم فرما اس لئے جو جس کے دل میں جیسی بات آتی ہو اپنے رب کے حضور عرض کرے۔ دعا ئیں ضروری نہیں ہوا کرتا کہ خاص ترکیب یا خاص الفاظ میں کی جائیں ، دعاؤں میں تو جان پڑتی ہے بے تکلف پیار سے ، سچائی سے محبت سے۔ اللہ کے کے حضور جس طرح آپ عاجزی