خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 181

خطبات طاہر جلد ۳ 181 خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۸۴ء تھا جس میں سے 28 فروری 1983 ء تک صرف ایک کروڑ اکسٹھ لاکھ (1,61,00,000) کی وصولی ہوئی ہے یعنی آئندہ ادائیگی کے چار سال باقی ہیں اور گزشتہ گیارہ سال میں جو وصولی ہوئی وہ پانچ کروڑ کے مقابل پر ایک کروڑ اکسٹھ لاکھ تو اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ چندہ دہندگان کے اوپر بقیہ سالوں میں کتنا بڑا بوجھ پڑنے والا ہے۔ جتنی تاخیر کر رہے ہیں اتنا ہی یہ کام ان کے لئے مشکل ہوتا چلا جائے گا لیکن دوران سال جو پاکستان میں وصولی ہوئی وہ خدا کے فضل سے بہت خوش کن ہے گزشتہ وصولیوں کے مقابل پر چنانچہ چھپن لاکھ اکیاسی ہزار (56,81,000) وصولی کی وجہ سے اب دو کروڑ اٹھارہ لاکھ ستر ہزار (2,18,77,000) وصولی ہو چکی ہے اور یہ آپ گیارہ سال کی وصولی سمجھیں ۔ اس کے مقابل پر اس سال کو شامل کر کے چار سال وصولی کے رہتے ہیں کیونکہ 1988ء میں تو پھر کام اتنا زیادہ ہو چکا ہوگا کہ اس وقت وصولیوں کا انتظار پھر نہیں ہو سکتا۔ 1984ء کا بقایا ایک سال سمجھ لیں 85ء ، 86 ء اور 87 ء یہ پورے چار سال ہیں وصولی کے ان سالوں میں دو کروڑ چھیاسی لاکھ روپے (2,86,00,000) ابھی جماعت نے ادا کرنا ہے۔ جو جماعتوں کو یاد دہانیاں کروائی گئیں تھیں اور ٹارگٹس دیئے گئے تھے اس کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ربوہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام دنیا کی جماعتوں میں اس قربانی میں اول آیا ہے کیونکہ ربوہ کے سپرد جو ٹارگٹ کیا گیا تھا دسویں مرحلے پر وہ تین لاکھ کا تھا لیکن ربوہ کی وصولی (13,54,000) روپے ہوئی ہے جب کہ اس سے پہلے 83ء تک کل وصولی گیارہ سال میں نو لاکھ اٹھاسی ہزار تھی۔ تو اس سے یہ بھی علم ہو گیا کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جماعت کے رزق میں برکت کا ایک ایسا نظام جاری کر دیا ہے کہ جو بظاہر ناممکن نظر آتا ہے وہ بھی پورا ہو جاتا ہے، توقع سے بہت بڑھ جاتا ہے ۔ کہاں گیارہ سال میں نو لاکھ اٹھاسی ہزار کی وصولی اور کہاں ایک سال میں تیرہ لاکھ چون ہزا روپے کی وصولی ، بہت بڑا فرق ہے لیکن ایک بات باقی شہروں کے حق میں یہ بیان کرنی ضروری ہے کہ بعض باقی بڑے شہروں نے اپنا چندہ بہت زیادہ لکھوایا تھا اس لئے وہ وصولی میں پیچھے رہ گئے ۔ ربوہ میں چندہ کی جو توفیق تھی اس کے مقابل پر صد سالہ جو بلی میں بہت کم چندہ لکھوایا گیا تھا مثلاً بجٹ کے لحاظ سے ربوہ، کراچی لاہور وغیرہ سے زیادہ پیچھے نہیں ہے زیادہ جو با قاعدہ بجٹ ہے لیکن وعدہ میں بہت پیچھے تھالا ہور کا وعدہ تھا تر اسی لاکھ روپے کا اور کراچی کا ایک کروڑ