خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 139
خطبات طاہر جلد ۳ 139 خطبه جمعه ۱۹ مارچ ۱۹۸۴ء تو اس وقت اس کے دل میں بغاوت کے خیالات پیدا نہیں ہوتے اور گناہوں میں جب وہ ملوث ہو جاتا ہے اور بے اختیار پاتا ہے اپنے آپ کو تب بھی یقین کامل اسکے دل میں رہتا ہے اور کبھی یہ متزلزل نہیں ہوتا کہ اگر اللہ چاہے تو مجھے بخش سکتا ہے اور اسی قسم کا سلوک وہ خدا کی مخلوق سے بھی کرتا ہے۔ یہ وہ ظن ہے جس کے متعلق ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ظن کی اتنی قدر فرمائے گا کہ ایسا شخص جس کے متعلق جہنم کا فیصلہ ہو چکا ہو، یہ تقدیر جاری ہو گئی ہو کہ یہ جہنم میں جائے گا کیونکہ آخری تجزیہ میں اس کے بداعمال کا پلڑا بہت زیادہ بھاری رہا تب بھی یہ حسن ظن انسان کو آخری ہلاکت سے بچا سکتا ہے۔ استغفار کرنے والوں کے لئے اس میں بہت ہی بہت ہی عظیم الشان حکمت کا پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے ظن کو کبھی میلا نہ ہونے دیں، ہمیشہ خدا تعالیٰ سے حسن ظن کا معاملہ کریں اور جو اللہ تعالیٰ سے حسن ظن رکھتا ہے یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ بنی نوع انسان سے حسن ظن نہ رکھے ۔ یہ ایک اور پہلو ہے لوخود آنحضور ﷺ نے ظاہر فرمایا مختلف رنگ میں کہ جو شخص بندوں سے یہ سلوک نہیں کرتا سے بھی یہ سلوک نہیں کرتا جو بندوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر ادا نہیں کرتا ، جو بندوں پر رحم نہیں کرتا وہ خدا کے رحم کا طالب نہیں ہو سکتا تو حضور اکرم ﷺ نے اس مضمون کو اتنا کھول دیا ہے کہ اس کے بعد یہ خیال یا یہ و ہم کہ حسن ظن کا صرف ایک راستہ ہوگا اور وہی انسان کو بچائے گا یہ غلط ہے۔ خدا تعالیٰ پر حسن ظن رکھنے والا خدا کے بندوں پر بھی حسن ظن رکھتا ہے، اور وہی حسن ظن قبول ہو گا یا اسی کا حسن ظن قبول ہوگا جو اپنے اللہ پر بھی حسن ظن رکھتا ہے اور اس کے بندوں پر بھی حسن ظن رکھتا ہے ان کے ساتھ بھی حسن ظنی والے معاملات کرتا ہے بدظنی والے معاملات نہیں کرتا ۔ ایسے شخص کے لئے خوشخبری ہے کہ اگر اس کی کمزوریاں غالب آجائیں اور وہ گناہ سے نہ بچ سکا ہو اور اس کے گناہوں کا پلڑا نمایاں طور کرتا وہ خدا پر حاوی بھی ہو گیا ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اس حسن ظن کے نتیجہ میں اسے معاف فرمادے گا۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے خوف کا استغفار سے بڑا گہرا تعلق ہے یعنی بعض اوقات انسان حیران ہوتا ہے کہ ایک انسان جو اتنی لمبی بدیاں کر چکا تھا اسے بخشا کیوں گیا اور اس قسم کی احادیث پڑھ کر یہ ذہن میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ پھر کوئی فرق نہیں پڑتا بدیاں کر لینی چاہئیں حالانکہ اس قسم کی بدیوں کی جرات اس خوف کو کھا جاتی ہے اور ٹکراتی ہے اس خوف سے جس کے نتیجہ میں انسان بخشا جاتا ہے اس لئے جسارت کے نتیجہ میں بدیاں کرنا اس کا کوئی جواز کہیں نہیں ملتا نہ قرآن کریم میں نہ احادیث