خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 135
خطبات طاہر جلد ۳ 135 خطبه جمعه ۱۹ مارچ ۱۹۸۴ء میں استطاعت صلى الله ہوں ، اس کے اندر رحمت کا جذبہ پایا جاتا ہو۔ وہ اپنے ساتھ جوڑ لے انسان کو اور اس جوڑنے کے نتیجہ اس کا تزکیہ ہو۔ چنانچہ آنحضور علیہ دونوں پہلوؤں سے سب بنی نوع انسان سے زیادہ کامل نظر آتے ہیں۔ اتنا گہرا محبت کا تعلق آپ نے اپنی ذات کے ساتھ پیدا کر دیا کہ بہت بڑا مقام اس محبت کا تھا ان جاہل عربوں کی اصلاح میں جن کی چند سالوں میں کا میں کایا پلٹ دی گئی۔ اگر آنحضور ﷺ کی غیر عروسه معمولی محبت ان کے دل میں نہ پیدا ہوئی ہوتی تو ان کو طاقت نہیں تھی گناہوں سے بچنے کیلئے ان میں اعت نہیں تھی کہ وہ اپنی بدیوں اور سینکڑوں سال سے خون میں ملی جلی بدیوں سے دور رہ سکیں ۔ پس آج بھی یہی نسخہ کارگر ہوگا۔ وہ جو تربیت کا دعویٰ کرتے ہیں اور جو استغفار کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کا استغفار مقبول ہو ان کو بالکل یہی سلوک جو وہ خدا سے چاہتے ہیں اللہ کے بندوں سے کرنا پڑے گا اور پیار اور محبت کے دائرہ کو وسیع کرنا پڑے گا اور محبت کی قوت میں شدت پیدا کرنی پڑے گی یہاں تک کہ مجبور ہو جائیں لوگ اپنے تزکیہ کے لئے آپ کی محبت کی بنا پر نفرت اور تزکیہ میں ایک ایسا بعد ہے جیسے مشرق اور مغرب کا بعد ہے۔ اور وہ لوگ جو نفرت کے ذریعہ اصلاح کرنا چاہتے ہیں لازماً جھوٹے ہیں کیونکہ قرآن کریم جگہ جگہ ان کی تردید فرما رہا ہے اور انسانی فطرت اس خیال کو دھکے دے رہی ہے۔ استغفار کے مضمون پر ہی اگر آپ غور کریں تو آپ کو یہ حکمت سمجھ آئے گی کہ بنی نوع انسان کی اصلاح کا دعوی اور نفرت کا ہتھیار لے کر نکلنا یہ دونوں باتیں اکھٹی نہیں چل سکتیں آنحضور ﷺ کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے : لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ( آل عمران : ۱۶۰) صلى الله کہ اے محمد ! ( ) تو جو تمام خوبیوں کا مجمع ہے تیری ذات میں اکھٹی ہیں بے انتہاء خوبیاں اگر صرف ایک خوبی سے بھی عاری ہوتا ہے یعنی فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ ہو جاتا، تیرے دل میں سختی پیدا ہو جاتی تو ترش رو ہو جاتا لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ یہ سارے بندے جو آج عاشقوں کی طرح تیرے گردا کھٹے ہوئے ہیں اور پروانہ وار تیری محبت میں جلنا چاہتے ہیں یہ سب تجھے چھوڑ کر بھاگ جاتے ، تو کتنا عظیم الشان نکتہ ہے ۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے