خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 128
خطبات طاہر جلد ۳ 128 خطبه جمعه ۲ مارچ ۱۹۸۴ء جانتے ہیں؟ بے گناہ ہونے کے اطمینان کسی نبی نے بھی ظاہر نہیں کئے ۔ جو دنیا میں افضل الرسل اور خاتم الرسل گزرا ہے اس کے منہ سے بھی یہی نکلار بنا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَبَاعِدُ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ خَطِينَا “ اے ہمارے رب ، ہماری بخشش فرما اور ذنوب معاف فرمادے یعنی وہ نیکیوں کی حسرتیں جو ہم پوری نہیں کر سکے ان حسرتوں پر ہماری پکڑ نہ فرما ۔ ہم اعتراف کرتے ہیں کہ جتنی نیکی ہمیں کرنی چاہئے تھی وہ نہیں کر سکے یہ ہمارا گناہ ہے جو ہمیں غم کی طرح کھائے جا رہا ہے تو ہمیں بخش دے۔ اور جہاں تک آئندہ کا تعلق ہے بَاعِدُ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ خَطِينَا ہمیشہ ہمارے درمیان اور ہماری خطایا کے درمیان فاصلے پیدا کرتا چلا جا ، بڑھاتا چلا جافا صلے ۔ پس یہ دونوں مضامین جو مغفرت کے انتہائی اعلیٰ معنی ہیں یہ اس آیت کریمہ میں بیان ہوئے آنحضرت ﷺ کے متعلق جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ۔ فرماتے ہیں: صلى الله عروسه حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : اور آنحضرت ا ہمیشہ فرماتے تھے کہ سورہ ہود نے مجھے بوڑھا کر دیا اور آپ سب سے زیادہ استغفار پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میں دن میں ستر مرتبہ استغفار کرتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے آپ کے حق میں فرمایا: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِرَ بِكَ وَاسْتَغْفِرُهُ * إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا (النصر) اس سورۃ کی ایک بالکل نئی اور اچھوتی تفسیر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام دو صلى الله عليه ۔ یہ سورۃ آنحضرت ﷺ کے قرب زمانہ وفات میں نازل ہوئی تھی اور اس میں اللہ تعالیٰ زور دے کر اپنی نصرت اور تائید اور تحمیل مقاصد دین کی خبر دیتا ہے کہ اب تو اے نبی خدا کی تسبیح اور تمجید کر اور خدا سے مغفرت چاہ۔ وہ