خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 124 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 124

خطبات طاہر جلد ۳ 124 خطبه جمعه ۲ مارچ ۱۹۸۴ء جب بھی لفظ مغفرت استعمال ہوا ہے یا آپ نے استغفار کا لفظ اپنے لئے استعمال فرمایا علی الخصوص ان دو معنوں میں وہ استعمال ہوا ہے ۔ یعنی گناہوں کی بخشش کے معنوں میں نہیں بلکہ گناہ نہ کرنے کے باوجود انکساری کی انتہا کے طور پر یہ عرض کرنے کے معنوں میں ہے کہ اے خدا ! ان سب باتوں کے با وجود انسان فِي ذَاتِہ کسی چیز کا مستحق نہیں ہے ، جب تک تیری مغفرت نصیب نہ ہو اس وقت تک کوئی انسان بخشش کا دعوی نہیں کر سکتا ، نجات کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ تیری عطا کے سوا ، تیری مغفرت کے سوا کوئی انسان معصوم بن ہی نہیں سکتا۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان معانی کو بڑی وضاحت سے مختلف مواقع صلى الله عليسة پر بیان فرماتے ہوئے مستشرقین اور دیگر معاندین اسلام کے ان اعتراضوں کو رد کیا جو یہ کہا کرتے تھے کہ دیکھو! تمہارا رسول تو کثرت سے استغفار کرتا تھا اور روایات سے پتہ چلتا ہے کہ دن میں سوسو بار آنحضور استغفار فرمایا کرتے تھے۔ تو انہوں نے اپنی جہالت اور نادانی میں یہ اعتراض کئے کہ ثابت ہوا کہ بہت ہی گناہگار تھے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ استغفار کا تو مطلب ہے گناہ بخشنا پس جس نے زیادہ گناہ کئے اس نے زیادہ استفغار کی ، اور اپنی نادانی میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا اور حضرت عیسی علیہ الصلوۃ السلام پر یہ الزام لگایا کہ گویا وہ استغفار نہیں کرتے تھے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس دوسرے معنے کو بڑی ے معنے کو بڑی تفصیل سے بیان فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ غفر کا اصل معنی ہے ڈھانپ لینا اور گناہوں سے دور کر دینا، انسان کے گناہوں اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دینا یعنی انسان کے اندر سے گناہ کی خواہش کو تلف کر دینا اور گناہ کے مواقع سے اس کو دور رکھنا ۔ پس آنحضرت جب خدا تعالیٰ کے حضور استغفار کرتے تھے تو ان معنوں میں استغفار کرتے تھے کہ اے خدا! پہلے بھی مجھے جو کامل معصومیت عطا ہوئی وہ تیری مغفرت کے نتیجہ میں ہوئی ، تو نے میرے اور میرے گناہوں کے درمیان ہمیشہ فاصلہ رکھا یہاں تک کہ ایک موقع پر فرمایا کہ میرا شیطان مسلمان ہو گیا یعنی نفس امارہ میں برے اعمال کے احکام کی طاقت ہی باقی نہیں رہی ۔ پس ان معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آنحضور الاستغفار فرمایا کرتے تھے اور آئندہ کے آئندہ کے لئے بھی کہ اے خدا! جیسا حسن سلوک تو نے مجھ سے سابقہ زندگی میں فرمایا ، آئندہ بھی ہمیشہ کے لئے مجھے گناہوں سے دور رکھنا اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان فاصلے ڈال دینا ، روکیں کھڑی کر دینا۔ صلى الله