خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 105
خطبات طاہر جلد ۳ 105 خطبہ جمعہ ۱۷ فروری ۱۹۸۴ء کارفرما تھی۔ اس قدر دل آپ کا اس قدر غم سے کتنا تھا کہ برداشت سے باہر ہورہا تھا اور وہ ساری دعا ئیں جو لیکھو سے تعلق رکھتی ہیں ان کو آپ پڑھ کر دیکھیں ان کے پیچھے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ کی غیرت کار فرما ہے۔ بار بار مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لکھتے رہے اور اسے سمجھاتے رہے کہ علوس صلى الله علی کی شان میں گستاخی کرتے ہو یہ چیز میری برداشت سے باہر ہے تم جو حضرت اقدس محمد مصطفی ع کی : : اس طرح میرا دل کٹ جاتا ہے کہ میں جو دعاؤں کے لئے مامور کیا گیا ہوں تمہارے لئے میرے دل سے بد دعا نکل جاتی ہے اس لئے اس بد دعا سے بچو اور میرے آقا محمد مصطفیٰ ﷺ کے خلاف بد زبانی سے کام نہ لو۔ اسی طرح وہ احمدی جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق ہے جب وہ گالیاں سنتا ہے تو اس کو پہلے یہ خیال نہیں آتا کہ یہ مولوی میرے خلاف آگ لگانے والے ہیں، میرے مکان کا کیا بنے گا؟ میرے بچوں کا کیا ہو گا؟ سب سے پہلے اس کے دل پر چوٹ لگتی ہے محبت کی اور وہ سوچتا ہے کہ کب تک ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف گالیاں سنیں گے۔ اس غم سے جو دعا اٹھتی ہے جس کی جڑیں اس غم میں پیوستہ ہوتی ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ وہ دعانا مقبول ہوگی ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے ۔ ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دینی شروع کیں مجلس میں اور ایک صحابی جو موجود تھے ان سے برداشت نہ ہوا اور انہوں نے آگے سے کچھ سخت کلامی کی یا کوشش کی پکڑنے کی تو حضرت مسیح موعود علیہ والسلام نے روک دیا سختی سے اور فرمایا صبر سے کام لیں ، صبر کرنا چاہئے ۔ اس پر بے ساختہ جواب انہوں نے یہ دیا کہ اپنے پیارے کے خلاف باتیں سن کر آپ سے تو صبر ہوتا نہیں اور ہمیں کہتے ہیں ہم آپ کے خلاف باتیں سن کر صبر کریں یہ نہیں ہم سے ہو سکتا ۔ اس کے باوجود احترام ادب اور عشق کا یہ بھی تقاضا تھا کہ کامل فرمانبرداری اختیار کی جائے اس لئے وہ باز تو رہے لیکن دل کی ایک ایسی بات کر گئے جس میں بڑی حکمت ہے لیکن اس فرق کو نہیں سمجھ سکے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بے صبری اور ان کی بے صبری میں تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو عارف باللہ تھے۔ آپ کو وہ شخص لا جواب نہیں کر سکا کیونکہ اگر آپ غور کریں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا صبر تو خدا کے حضور گریہ وزاری میں ٹوٹا کرتا تھا دنیا میں تو نہیں ٹوٹتا تھا، خود اس کے