خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 726
64 آنحضرت کا طریق تبلیغ آپ نے تبلیغ میں صبر کا نمونہ دکھایا آپ محسن عمل کے قائل تھے آپ کے ہر فیصلہ کے پیچھے حکمت کارفرما تھی 102 102 مظالم کا مقابلہ جرات سے کیا حضرت خباب کو آنحضور کی صبر کی نصیحت 604 238 103 آپ کو بنی نوع سے جذباتی حد تک پیار 104 اور ہمدردی کے انداز تبلیغ کا کام صرف آپ کے تک محدود نہیں صبغۃ اللہ آنحضور سے حاصل ہو سکتا ہے 35 37 ماننے والوں پر بھی فرض ہے 110،126 اللہ نے خوشخبری دی کہ اگر تیری قوم صبر اور حق پر آنحضرت نے اللہ کی طرف لوگوں کو کھلی دعوت دی 147 قائم رہی تو سارے جہاں کی رحمتیں نازل کروں گا دعوت الی اللہ سے سارا عرب آپ کا دشمن ہو گیا 148 طریق نصیحت و دعوت الی اللہ 268 206 آپ اپنے رب سے اور آپ کا رب کامیاب ناصح اور مذکر کو آنحضرت کی پیروی کرنا ہوگی 214 آپ سے پیار کرتا تھا سورۃ آل عمران کی آیت ۱۹۲۔۱۹۱ کے نزول کے وقت آپ کی کیفیت آپ کا امتیاز کہ اللہ نے خود امین کا لقب دیا فتح مکہ پر حضرت علیؓ کی بجائے عثمان بن ابی طلحہ کو خانہ کعبہ کی چابیاں دے دیں اپنے غلاموں کو آپ نے امانت کی اعلیٰ تربیت دی آپ کی تربیت سے چھوٹے بچے بھی امانت کا حق سمجھنے لگے آپ تکلف کرنے والے نہ تھے عظیم محسن اور نجات دہندہ کہ گردنوں کے طوقوں 154 نصیحت کیلئے ہمیں آپ کے نقش قدم پر چلنا ہے آپ کی نصیحت میں گہر اسوز اور اثر تھا 649 آپ لوگوں کے غم میں گھلتے رہے 616،620 آپ دنیا کے سب سے بڑے مذکر تھے 619 621،620 آنحضرت کی نصیحت کا مقصد ہمیں زندگی بخشنا ہے آنحضرت کے فرمان سے اجتناب موت ہے آنحضرت کی چھوٹی نصیحت میں بھی ترقی کے راز آنحضرت کی حسین سیرت دور سے نظر آتی ہے عفو درگزر، جانی دشمنوں اور قاتلوں کو معاف کر دیا 214 212 214 214 30 30 4 5 10 10 10 10 11 13 13 6 7 7 14 625۔626 490 620 فتح مکہ پر ظالموں اور قاتلوں کو معافی 630 فتح مکہ پر معافی کا پر شوکت مظاہرہ ہند کو معاف کرنے کا اعلان سے قوموں کو آزاد کروانے والے ہیں آپ کی ساری زندگی فاستبقو الخیرات کا عظیم الشان نمونہ تھی 637 آنحضرت کو حضرت حمزہ کی شہادت کا دکھ تھا حضرت بلال پر مظالم کرنے والوں کو معاف کر دیا آنحضور کا اسوہ ہی زندگی کا راستہ ہے 219 238 عکرمہ کی بخشش کیلئے آپ نے دعا کی آنحضرت کی سیرت کا بیان اور سننا ذمہ داری کا متقاضی آنحضور کا مکی دور صبر کی نمایاں مثال 238 آنحضرت کے چھوٹے عمل میں بھی تعلیمات کا سمندر آنحضرت کا صبر اللہ کی خاطر تھا 129 ، 127 | حسن یوسف کو آنحضرت سے کوئی نسبت نہیں آنحضرت دشمنوں کے لئے غم محسوس کرتے غصہ نہیں آپ صبر کا اعلیٰ ظرف رکھتے تھے مبلغ کو صبر محمد کی تلقین کی گئی 129 127 129 اصلاح کے حیرت انگیز نمونے آنحضرت کے لامحدود احسانات آنحضرت نے غیبت سے ڈرایا