خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 606 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 606

خطبات طاہر جلد ۲ 606 خطبه جمعه ۲ دسمبر ۱۹۸۳ء قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ) (الانعام: ۱۶۳) صلى الله اے محمد ! تو نے امانت کا ایسا حق ادا کر دیا ہے کہ تیری عبادت ، تیری ساری قربانیاں ، تیرا تو مرنا جینا بھی کلیتہ اپنے رب کے لئے ہو گیا ہے اس میں غیر اللہ کا کوئی دخل باقی نہیں رہا۔ ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر ۵ ص۱۶۱ ۱۶۲) تو ہمارا آقا اتنا بڑا امین ہے ۔ ہمارا آقا اتنا بڑا سردار ہے جس کی متابعت کا ہم دم بھرتے ہیں ۔ اگر ہم باوجود کوشش کے اس اعلیٰ مقام امانت پر فائز نہیں ہو سکتے تو یہ تو کوئی بات نہیں جس پر خدا پکڑے کیونکہ ہر انسان کی صلاحیتیں مختلف ہیں ، جو صلاحیتیں اور قابلیتیں اس نے ودیعت کی ہیں وہ الگ الگ ہیں ۔ کوئی انسان کمزور پیدا ہوتا ہے تو کوئی طاقتور، کوئی بیمار اور کوئی صحت مند کسی کی بعض قابلیتیں نمایاں ہوتی ہیں، کسی کی بعض اور قابلیتیں نمایاں ہوتی ہے اس لئے یہ تو درست ہے کہ انتہائی کوشش کے بعد بھی کوئی شخص دنیا میںمحمد ﷺ نہیں بن سکتا لیکن یہ بھی درست نہیں کہ حضور اکرم ﷺ کی طرف حرکت نہیں کر سکتا۔ آپ ایک مستقل حرکت حضرت محمد مصطفی ﷺ کی طرف کر سکتے ہیں اور بحیثیت امین ہمارا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم حضور اکرم کے وجود سے قریب تر ہوں ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دعا کرو کہ مرنے کے بعد ہم حضور رسول اکرم ﷺ کے قدموں میں جگہ پائیں۔ بڑی اچھی خواہش ہے لیکن بسا اوقات انہیں یہ خیال نہیں آتا کہ جنہوں نے اس دنیا میں محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں جگہ نہیں پائی وہ وہاں کیسے پا جائیں گے۔ یہ دنیا دار العمل ہے اگر آپ نے حضرت رسول کریم ﷺ کے قریب ہونا ہے تو اب وقت ہے قریب ہو جائے مرنے کے بعد قربت کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ پھر آپ اس مقام سے اٹھائے جائیں گے اور وہیں کھڑے کئے جائیں گے جو قربت کا مقام آپ نے دنیا میں حاصل کر لیا تھا۔ صلى الله عليو صلى الله عروسة الله صلى الله امانت کے لحاظ سے جب ہم دیکھتے ہیں تو اس پہلو سے بہت ہی تکلیف دہ مناظر نظر آتے ہیں۔ جو شخص با ں بندوں کا امین نہ ہو وہ خدا کا امین ا کا امین کیسے ہو سکتا ہے۔ امانت میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں اور جماعت کو لازماً ان ساری کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا ۔ امانت کے وسیع تر مضمون میں داخل ہونا تو بہت بڑی بات ہے۔ میں اس وقت اتر کر معمولی عرف عام کے مضمون میں پہنچ گیا ہوں۔ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ چھوٹی چھوٹی امانتوں میں بھی خیانت کی جارہی ہے۔