خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 602
خطبات طاہر جلد ۲ 602 خطبه جمعه ۲ دسمبر ۱۹۸۳ء اظہار کیا تو حضرت خدیجہ نے اس بات پر کہ آپ کا تعلق لازماً خدا تعالیٰ سے ہے کسی اور سے نہیں سب سے قوی دلیل یہ دی کہ آپ سب سے زیادہ حقوق العباد ادا کرنے والے ہیں اور حقوق العباد میں آگے بڑھ کر حقوق ادا کرنے والے یعنی آپ کا مقام عدل سے بہت آگے ہے۔ آپ حقوق العباد اس طرح ادا کرتے ہیں کہ محسن بھی ہیں اور ایتاء ذی القربی کا مقام بھی آپ کو حاصل ہے۔ ( حیح بخاری کتاب بدء الوحی باببدء الوحی ) حضرت خدیجہ کے یہ الفاظ تو یجہ کے یہ الفاظ تو نہیں تھے مگر جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہی بنتا ہے۔ گویا اس کا طبعی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو انسان مخلوق کے حقوق ادا کرتا ہو اس کا تعلق لازما خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے شیطان سے اس کا تعلق قائم نہیں ہو سکتا اور وہ یہ حق رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس سے تعلق رکھے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آپ حقوق اللہ کی بات پہلے کریں تب بھی حقوق العباد پر جا کر بات منتج ہو جائے گی۔ چنانچه قرآن کریم نے آنحضور ﷺ سے متعلق جو فر ما یافتد لی (النجم : 9) تو اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے رب کے قریب ہوا اور قریب ہو کر اپنے رب کو محض اپنے لئے نہیں رکھ لیا اور بنی نوع انسان سے مستغنی نہیں ہوا ۔ رب کے قرب کا ایک طبعی تقاضا تھا کہ وہ بنی نوع پر رحمت کے ساتھ جھک جائے اور جو کچھ اس نے پایا وہ انہیں بھی عطا کرے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تدلی کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے کہ جیسے درخت با ثمر ہو کر جھک جاتا ہے اور اس کا پھل ان لوگوں صلى الله علی کے لئے جو پھل کے محتاج ہوں قریب آ جاتا ہے۔ پس آنحضرت ﷺ کا سفر خدا کی طرف شروع ہوا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے منعکس ہو کر پھر بندوں سے آملا ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ایک وحدت پائی جاتی ہے۔ مذہب میں یہ ایک توحید کا منظر ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد بالآخر ایک ہو جاتے ہیں ۔ یہ نا ممکن ہے کہ کوئی شخص حقوق العباد صحیح معنوں میں ادا کرے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر اس پر نہ پڑے ۔ ایسے بندوں کو خدا چن لیتا ہے جو واقعتہ اس کے بندوں کا حق ادا کرتے ہیں اور یہ ناممکن ہے کہ کوئی اللہ تعالیٰ کا ہو جائے اور بنی نوع انسان کے حقوق ادا نہ کرے۔ لہذا ایسی مذہبی جماعتیں جن میں حقوق العباد کی کمی نظر آئے ، وہ ان اخلاق سے عاری ہوں جو انسان کو انسان کے لئے نرم کر دیتے ہیں اور اس کے حقوق ادا کرنے کے علاوہ احسان کا تقاضا کرتے ہیں ۔ ایسا انسان اگر یہ کہے یا یہ سمجھے کہ میں بہت ہی عبادت کرنے والا ہوں، بہت ہی