خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 523 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 523

خطبات طاہر ۲ 523 خطبه جمعه ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۳ء کر لیا۔ آپ کو وہ بادشاہت عطا کی جو خدا کی بادشاہت جو خدا کی بادشاہت تھی۔ آپ کی زبان خدا کی زبان بن گئی ، آپ کا ارادہ خدا کا ارادہ بن گیا ، آپ کا غضب خدا کا غضب ٹھہرا اور آپ کا رحم اللہ کا رحم کہلایا۔ یہ ہے سورہ فاتحہ میں بیان ہونے والی مالکیت کی صفت کا مفہوم جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے کھول کر بیان فرمایا ہے۔ آپ نے فرمایا ہر کامیابی کا راستہ یہ ہے کہ انسان ان تین صفات کو اختیار کر کے اپنے خالق و مالک رب سے تعلق جوڑے تب خدا کی صفت مالکیت ان تین صفات کو چمکا دیتی ہے، ان کے استعمال کو ایک نئی شان بخشتی ہے۔ ایک انسان اگر صفت رحمانیت کا مظہر ہوا اور صفت مالکیت کا نہ ہو تو اس کی حد گویا ایک معین حد ہے اس سے آگے وہ نہیں بڑھ سکتا۔ آپ کو کسی شخص پر کتنا ہی رحم کیوں نہ آ رہا ہو ، آپ کا کتنا بھی دل چاہے کہ آپ اس کو سب کچھ عطا کر دیں، وہ مانگے نہ مانگے آپ آپ پ اس اس کو کو عطا کر دیں لیکن آپ صفت مالکیت کے مظہر نہ بنیں تو آپ کی صفت رحمانیت کیا جلوہ دکھا سکتی ہے۔ رحیمیت کی صفت اختیار کریں ، ربوبیت کی اختیار کریں جو چاہیں کریں اگر صفت مالکیت کا شرف حاصل نہ ہو تو یوں معلوم ہوتا ہے ہر صفت اپنی ذات میں سکڑ کر رہ گئی ہے اس میں کوئی بھی طاقت نہیں رہی ۔ پس جب خدا تعالیٰ کے بندے خدا کی خاطر ربوبیت اختیار کرتے ہیں ، رحمانیت اختیار کرتے ہیں اور رحیمیت اختیار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی کمزوریوں پر رحم فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو! میرے بندے میرے جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں ، میرے حسن کی صرف زبان سے تعریف نہیں کرتے بلکہ عمل کو بھی میری صفات کے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بیچارے مجبور ہیں ان کے پاس کچھ طاقت نہیں ہے کہ وہ میرے جیسا بن سکیں ۔ تب خدا کی صفت مالکیت جوش میں آتی ہے اور وہ ان کو درجہ بدرجہ مالکیت میں شامل کر لیتی ہے اور اس مقام پر سب صلى الله سے زیادہ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے مالکیت کی صفات پائیں ۔ نہ صرف خود یہ صفات پائیں بلکہ اپنے غلاموں کو بھی عطا کیں چنانچہ آنحضرت ﷺ نے جب یہ فرمایا کہ علی عسى رب اشعث اغَبَرَ لو اقسم على الله لابره (مستدرک حاکم جلد ۴ صفحه ۳۶۴- الجامع الصغير للسيوطي الجزء الثاني باب الراء ) تو اسی مضمون کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔ تم میرے مقام کو سمجھنا چاہتے ہو تو تمہاری عقلیں ،