خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 466 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 466

خطبات طاہر جلد ۲ 466 خطبه جمعه ۹ ستمبر ۱۹۸۳ء صلى الله عروسه ایک ممبر کے طور پر بار ہا وہاں جانے کا موقع ملا لیکن بحیثیت خلیفہ المسیح میں سمجھتا ہوں کہ اس سے پہلے نہ کوئی مشرقی پاکستان اور نہ سیلون بلکہ اس رخ پر بھی کوئی دورہ کسی خلیفہ کا نہیں ہوا اس لئے مجھے خوشی کا ۔ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر مشرق کے لئے اسلام کی نئی ترقیات کا دروازہ کھولنے کا فیصلہ کر چکی ہے اور اس پہلو سے حضرت رسول اکرم ﷺ کی پیشگوئی ایک اور رنگ میں بھی پوری ہو رہی ہے کہ سورج مغرب سے طلوع کرے گا کیونکہ مشرق بعید کی جتنی قومیں ہیں ان پر مغرب کا سورج بذریعہ احمدیت طلوع کرنے والا ہے لیکن اس دورے میں ایک کمی محسوس ہو رہی ہے اور وہ ہمارا انڈو نیشیا نہ جا سکنا ہے کیونکہ اس سے پہلے جب بھی خلفاء کی مشرق یا مشرق بعید آنے کی باتیں ہوئیں ہمیشہ سب سے نمایاں اور سب سے اہم ملک جو سامنے آتا رہا وہ انڈو نیشیا ہی تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بعض احمدیوں کو ایسی رویا دکھائی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انڈو نیشیا نہ جا سکنا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ پہلے سے ہی تقدیر الہی میں مقدر تھا لیکن اس کے بدنتائج نہیں نکلیں گے بلکہ ان خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اس فعل میں بھی برکت ڈالے گا اور انڈو نیشیا کے لئے بھی ترقی کے بہت سے سامان پیدا فرمائے گا۔ جب ہم نے انڈو نیشیا کے دورہ کے متعلق سوچنا شروع کیا تو آغاز میں اس معاملہ کو جماعت پر روشن نہیں کیا گیا بلکہ تحریک جدید کے وہ چند عہد یدار جن کا اس دورے کے انتظامات سے تعلق تھا صرف ان کو ہی بتایا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے دو مختلف آدمیوں کو جن ( کو ) اس دورے کا کوئی بھی علم نہیں تھا بذریعہ خواب اس دورہ کے متعلق اطلاع دی۔ ان میں سے ایک دوست ہمارے خاندان سے ہی تعلق رکھتے ہیں ان کا بڑے تعجب کے اظہار پر مشتمل پر ایک خط مجھے ملا اور انہوں نے یہ پوچھا کہ میں نے ایک ایسی خواب دیکھی ہے جس سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ کہیں آپ انڈو نیشیا جانے کا پروگرام تو نہیں بنار ہے۔ ان کی خواب ہی تھی کہ میں انڈونیشیا سے باہر لیکن قریب ہی کسی جگہ بیٹھا ہوا ہوں اور انڈونیشیا میں تبلیغ میں تبلیغ اسلام کی سکیم بنا رہا ہوں اور انہوں نے جو تبل جو تبلیغی سکیم بنا جانتے تھے باقی دوستوں کو انہوں نے نہیں پہچانا کہ وہ کون ہیں لیکن ایک ایسا کمرا ہے جس میں میرے سوا اور بھی چند لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور ہم بڑے انہماک کے ساتھ انڈو نیشیا کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے لئے بڑے پیمانے پر فتح کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں ۔ بناتے ہوئے د۔ دیکھا ، مجھے تو ا، وہ