خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 457 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 457

خطبات طاہر جلد ۲ 457 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۳ء سیدھے یا ٹیڑھے جیسے بھی ان بے چاروں سے رکھے گئے ۔ وہ جانتے ہی نہیں تھی کہ تعمیر کس طرح کیا کرتے ہیں لیکن سب سے زیادہ پیار کی نگاہیں جس گھر پر خدا کی پڑی ہیں وہ یہی گھر ہے۔ سب سے صلى الله زیادہ عبادت کرنے والے جس عظیم الشان وجود نے اس گھر کو آباد کرنا رنا تھا وہ حضرت محمد مصطفیٰ علی کی عروسه بعثت کا مطالبہ کیا گیا تھا اور جن الفاظ میں آپ نے دعا کی انہی الفاظ میں قبولیت کی خبر دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ صلى الله نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا یہ تھی کہ: عليه رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ (البقرة : ١٣٠) اے ہمارے رب ! ابْعَثْ فِيهِم ان لوگوں میں جن کو میں نے یہاں آباد کیا ہے ان میں وہ نبی مبعوث فرما، وہ نبی سے مراد وہ نبی جس کی خوشخبریاں اللہ تعالیٰ پہلے نبیوں کو دیتا آ رہا تھا۔ فرمایا اس گھر سے زیادہ اور کوئی گھر مستحق نہیں ہے جسے میں اور میرا بیٹا بنا رہے ہیں اور جو ایسی عظیم الشان قربانیوں کے ساتھ بنایا گیا ہے کہ تو یہاں وہ نبی مبعوث فرما۔ گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت رسول اکرم ﷺ کی بعثت کے لئے چار دعائیں کیں کہ اس نبی کو یہ چار صفات عطا فرما يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايتك وہ بنی نوع انسان پر تیری آیتیں تلاوت کرے ۔ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ اور کتاب کی تعلیم دے یعنی شریعت عطا کرے وَالْحِكْمَةَ اور اس شریعت کی ساتھ حکمتیں بھی بیان فرمائے۔ کوئی ایسا نبی نہ ہو جو یہ کہے کہ مانو نہیں تو جاؤ جہنم میں بلکہ دلوں کو بھی قائل کرے، دماغ کو بھی قائل کرے ۔ وَيُزَكِّيهِمْ اور اور حضرت ابراہ ابراہیم علیہ السلام نے سوچا جب یہ تین یہ تین خبریں ہو جائیں گی تو تزکیہ نفس تو ایک لازمی حصہ ہے۔ جس قوم کو ایسا رسول ملے جو اللہ کی آیتیں تلاوت کرے، پھر اس کو تعلیم کتاب دے، پھر اس کی حکمتیں بتائے ، اس کا تزکیہ تو ایک طبعی بات ہے ۔ خدا تعالیٰ نے اس دعا کو انہی الفاظ میں قبول فرمایا لیکن ایک فرق کے ساتھ اور وہ یہ کہ اس دعا کے الفاظ کی ترتیب بدل دی۔ اور یہ بتایا کہ بندہ کی سوچ اور ہوتی ہے اور خالق و مالک اور علیم و حکیم خدا کی سوچ اور ہوتی ہے۔ ایسا بار یک فرق کر دیا ہے کہ اس سے دعا کی شان کو بڑھا دیا ہے۔ سورۃ جمعہ میں اس دعا کی قبولیت کا اعلان ملتا ہے ۔ فرمایا هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ (الجمعه (۳) دیکھو! ابراہیم کی دعا سنی گئی ۔ یہ وہی خدا ہے جس نے انہی لوگوں میں سے وہ رسول بر پا کر دیا جس کے ۔