خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 445 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 445

خطبات طاہر جلد ۲ 445 خطبه جمعه ۲۶ اگست ۱۹۸۳ء یعنی بوجھ اٹھانے والا بننا ہو تو اس کی وسعت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ ایک زمانہ میں جا کر بوجھ اٹھانے کے میدان میں بہت ہی عظیم الشان پہلوان ثابت ہوگا اور ایسا ریکارڈ قائم کرے گا کہ دنیا میں پھر کوئی اسے توڑ نہیں سکتا لیکن اس کی طاقت میں یہ بات داخل نہیں کیونکہ بچہ ابھی اس وسعت تک پہنچا نہیں ہے ابھی اس مقام سے پیچھے ہے اس کی طاقت میں تو ابھی یہ بات داخل ہے کہ آپ ہاتھ پکڑ کر چلائیں ورنہ گر پڑے گا اپنا بوجھ بھی نہیں اٹھا سکتا۔ پس خدا تعالیٰ نے انسان کے ذہن کو ایک عظیم الشان مضمون میں داخل کر دیا اور فرمایا کہ دیکھو! وسعتیں تو تمہاری بہت ہیں لیکن تمہیں ان وسعتوں کا قرینہ بھی تو ہم ہی سکھائیں گے ، تمہاری طاقتوں کو رفتہ رفتہ ہم ہی بڑھائیں گے۔ تم یہ دعا ئیں کرو کہ اے خدا! تیری تقدیر ہم سے اچانک مشکل کاموں کا سامنا نہ کرادے جو ہماری وسعت میں تو ہیں لیکن ہم نے اپنی غفلتوں کے نتیجہ میں ابھی تک حاصل نہیں کئے ۔ یہاں یہ مضمون پھر دو شاخہ مضمون بن جاتا ہے اس لئے تحمل اور غور سے ہمیں آگے بڑھنا پڑے گا ۔ خدا تعالیٰ وسعت اور طاقت کے مطابق بوجھ ڈالتا ہے یہ درست ہے اور خدا تعالیٰ سے ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ ہماری طاقتوں سے بڑھ کر ہم پر بوجھ نہ ڈال لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ہماری طاقتیں اور ہماری وسعتیں ایک منزل پر اکٹھی ہو جائیں ۔ اگر ہم نے ذمہ داری ادا کی ہو تو ہمیں اس وقت اپنی وسعتوں کے اندر رہتے ہوئے ایک خاص طاقت لینی چاہئے ۔ یہ بھی تو ایک واقعہ ہے جو انسانی زندگی میں گزرتا ہے۔ اس کو مزید سمجھانے کی خاطر میں مثال دیتا ہوں کہ ایک انسان اگر دوڑ نا شروع کرے اور اپنی طاقتوں سے فائدہ اٹھانا شروع کرے تو اس کے جسم میں نشو و نما پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے اور ایک انسان اگر لیٹا ر ہے اور آرام طلب بن جائے تو بعض دفعہ وہ دو قدم بھی نہیں چل سکتا۔ اگر ان دونوں کو سمجھا دیا گیا ہو کہ تمہاری یہ ذمہ داریاں ہیں اور فلاں وقت ہم نے تمہیں فلاں سفر پر روانہ کرنا ہے تو وہ شخص جو لیٹا رہا اور اس نے اپنی طاقتوں کو ضائع کر دیا اس وقت وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے طاقت نہیں ہے۔ اس پر بات خوب کھول دی گئی تھی ، ذمہ داریاں بیان کر دی گئی تھیں اس لئے اس کی وہ طاقت ہونی چاہئے تھی اور اگر اس پر کوئی اس وقت ذمہ داری ڈالے تو نا انصافی نہیں ہوگی ۔ پس بسا اوقات یہ ہو سکتا ہے کہ ہماری وسعتوں کے اندر ایک چیز ہو اور ایک خاص وقت کی