خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 435
خطبات طاہر جلد ۲ اور پھر فرمایا: 435 خطبه جمعه ۲۶ اگست ۱۹۸۳ء وسعتیں بڑھانے کی دعا کریں ( خطبه جمعه فرموده ۲۶ را گست ۱۹۸۳ء بمقام مسجد احمد یہ مارٹن روڈ کراچی ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا وقفة رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وقفة وقفة وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ ( البقرة : ۲۸۷) قرآن کریم انذار اور تبشیر کے تانے بانے سے بنی ہوئی ایک عجیب و غریب صنعت ہے کہ اس کی کوئی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ بعض اوقات یہتا نا با نا نمایاں طور پر نظر آتا رہتا ہے۔ اب تبشیر شروع ہوئی اور اب انذار کا دھاگا آگیا اور بعض اوقات یہ بنتی اتنی باریک ہو جاتی ہے کہ ظاہری نظر اس کا فرق نہیں کر سکتی اور بعض اوقات ایک ہی آیت میں انذار اور تبشیر دونوں اس طرح مل جاتے ہیں کہ گویا ایک دوسرے کے اندر جذب ہو جاتے ہیں اور کامل طور پر ان کا اتحاد نظر کو عجیب لگتا ہے۔ یہ آیت جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس بات کی مثال ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔