خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 404 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 404

خطبات طاہر جلد ۲ 404 خطبه جمعه ۵ را گست ۱۹۸۳ء خوبصورت اور دلر با ہوتا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس مقصد کے پیش نظر بھی بڑی ذمہ داری سے نماز ادا کرو اس امید پر کہ تمہاری عبادتوں کے نتیجہ میں بالآخر تمہارا معاشرہ نہایت حسین اور جنت نما بن جائے ۔ فرماتا ہے نماز کو دن کے دونوں کناروں پر کھڑا کرو۔ جس طرح حفاظت کے لئے فوجیں مقرر کی جاتی ہیں اس طرح کا نقشہ کھینچا ہے کہ نمازوں سے اپنے دن گھیر لو اور راتوں کو بھی اٹھو اور خدا کی عبادت کرو ۔ کیوں؟ اس لئے کہ اِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ نیکیوں میں یہ خوبی پائی جاتی ہے کہ وہ بدیوں کو دور کر دیتی ہیں ۔ نماز کے نتیجہ میں تعلق باللہ اور اخروی فائدہ کے علاوہ اس دنیا میں بھی انسان کو جو نمایاں فائدہ پہنچتا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں اور اس کے معاشرہ میں حسن پیدا ہونے لگ جاتا ہے اور بدیاں دور ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور یہ اٹل اور ازلی ابدی قانون قدرت ہے اس میں آپ کبھی کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے کہ حسنات سے برائیاں دور ہوتی ہیں ۔ قرآن کریم کا یہ طرز کلام دنیا کے عام تصور سے بالکل مختلف ہے یہ نتیجہ کہ حسنات برائیوں کو دور کرتی ہیں عام انسانی فہم نے جو نتیجے اخذ کئے ہیں یہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ کوتاہ نظر انسان عام طور پر غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ بدیاں زیادہ طاقتور اور نیکیاں کمزور ہوتی ہیں ۔ کہتے ہیں کہ بدی اس میں راہ - پا گئی اور جوں جوں بدی داخل ہونا شروع ہوئی اس نے نیکی کو دھکیل کر باہر کرنا شروع کیا۔ قرآن کریم حیرت انگیز عقل و دانش کی ایک ایسی کتاب ہے کہ جو انسانی فطرت کی غلطیوں کی اصلاح کے ساتھ اس کے اخذ کئے ہوئے نتیجوں کی درستی کرتی ہے اور پھر اسکی صحیح راہنمائی بھی فرماتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حسنات طاقتور ہیں اور بدیاں کمزور ہیں ۔ وہ قومیں جن میں تم بدیاں دیکھتے ہو دراصل ان میں پہلے خوبیاں اور حسنات غائب ہونا شروع ہوئیں۔ چونکہ خلا نہیں ہو سکتا اس لئے حسنات کے نہ ہونے کے نتیجہ میں لازماً بدیاں اس کی جگہ پہنچ جاتی ہیں۔ انسانی فطرت خلا میں نہیں رہ سکتی ۔ انسانی مزاج بغیر کسی چیز کے زندہ نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب نیکیاں موجود رہتی ہیں وہ حفاظت کرتی ہیں اور بدیوں کو اندر داخل نہیں ہونے دیتیں ۔ بدیاں تو ایک منفی پہلو ہے جیسے روشنی کے مقابلے پر اندھیرا ہے۔ اگر روشنی نہیں ہوگی تو اندھیرے نے تو آنا ہی ہے۔ روحانی دنیا کی یہ سائنٹفک کتاب حیرت انگیز طور پر ایسی ایسی اصطلاحیں استعمال فرماتی ہے اور ایسے ایسے مضامین پر روشنی ڈالتی ہے کہ انسانی عقل وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی ۔ قرآنی نقطہ نگاہ کا علم ہو