خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 397 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 397

خطبات طاہر جلد ۲ 397 خطبہ جمعہ ۲۹ جولائی ۱۹۸۳ء یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کو آسمان سے رزق عطا نہ کیا جائے اور خود ان کو بھی دیکھو کہ چونکہ ان کا واسطہ ایک لامتناہی رزق کے سرچشمہ سے ہو چکا ہوتا ہے اس لئے یہ اس فیض کو آگے چلاتے ہیں اور بندگان خدا پر یا خدا کی راہوں پر خرچ کرنے سے خوف نہیں کھاتے ۔ یہ خدا سے ایک جاری چشمہ پاتے ہیں اور اس کو آگے جاری کر دیتے ہیں ۔ یہ لوگ بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے بھی بے دریغ خرچ کرتے ہیں اور خدا کی راہوں پر بھی بے دریغ خرچ کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جس وقت انہوں نے خدا کو پکارا تھا اس وقت ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا جو کچھ عطا ہوا ہے وہ خدا کی طرف سے عطا ہوا ہے ۔ انہوں نے اپنی ضرورت کسی بندہ کے سامنے پیش نہیں کی اس لئے جب سب کچھ خدا کی طرف سے عطا ہوا ہے تو وہی ضامن ہے۔ وہ اگر چاہے گا تو اس کو نہیں ختم ہونے دے گا اور وہ نہیں ختم ہوگا۔ وہ مالک ہے ، اس کے پاس لامتناہی رزق ہے، اگر وہ یہ فیصلہ کرے کہ یہ رزق ختم نہیں ہوگا تو وہ رزق ختم نہیں ہوگا۔ پس یہی وہ رزق ہے جو خدا کی طرف سے جب مومن بندوں کو عطا ہوتا ہے تو وہ اس میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے اموال میں سے خدا کی راہ میں جو خرچ کرتے ہیں وہی پاک کمائی ہے جس کے متعلق یقین سے کہا جاتا ہے کہ یہ خدا کا فضل ہے اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ باقی ہر کمائی ایسی ہوتی ہے جس کے متعلق کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ خدا کا فضل ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کے غلاموں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَبهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا (الح : ٣٠) صلى الله علي فرماتا ہے محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں اور غلاموں کا یہ حال ہے کہ ان کے لئے یہ سوال نہیں ہے کہ رات کو اٹھیں اور پھر دعائیں کریں ۔ اے رسول! تو جب بھی ان کو دیکھے گا ہمیشہ رکوع اور سجود کی حالت میں پائے گا۔ بظاہر جسمانی لحاظ سے وہ اپنے کاموں میں مصروف اور ادھر ادھر آجا رہے ہوں گے لیکن اللہ جانتا ہے کہ ان کی روحیں ہمیشہ خدا کے حضور رکوع اور سجدے کر رہی ہوتی ہیں۔ يَبْتَغُونَ کے