خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 393
خطبات طاہر جلد ۲ 393 خطبہ جمعہ ۲۹ جولائی ۱۹۸۳ء اور پھر فرمایا: روحانی طور پر آزاد قوم کہلانے کے مستحق ( خطبه جمعه فرموده ۲۹ جولائی ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصی ربوہ ) تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ أَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنَّا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا لَا يَسْتَوْنَ أَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ فَلَهُمْ جَنَّتُ الْمَأْوَى نُزُلًا بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (السجده : ۲۰۱۷) دنیا میں ہرمشین کے چلنے کے لئے ایندھن درکار ہوا کرتا ہے اور یہ دو قسم کے ایندھن ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اندرونی طور پر کام کرتے اور حرکت دیتے ہیں، دوسرے وہ جو باہر سے کھینچتے یا دھکیلتے ہیں۔ انسانی اعمال کو حرکت دینے کے لئے بھی اسی قسم کی توانائی کے دوسر چشمے ہیں۔ اندرونی طور پر محبت اور نفرت کی دو طاقتیں ہیں جو انسانی عمل کو حرکت دیتی ہیں اور بیرونی طور پر طمع اور خوف کی دو طاقتیں ایسی ہیں جو انسانی اعمال کو سینچتی یا دھا اعمال کو کھینچتی یا دھکیلتی ہیں ۔ قرآن کریم نے ان دونوں کا نہایت ہی پیارے اور حکیمانہ انداز میں الگ الگ جگہ ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ مومن پر یہ قو تیں کس طرح عمل کرتی ہیں ۔ پر یہ کس