خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 375 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 375

خطبات طاہر جلد ۲ 375 خطبہ جمعہ ۱۵ جولائی ۱۹۸۲ء اور پھر فرمایا: عبادت کے بغیر ہماری کوئی زندگی نہیں ( خطبه جمعه فرموده ۱۵ ار جولائی ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوہ ) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی : صلا إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا وَ إِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا إِلَّا الْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَابِمُونَ وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ وَالَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ * وَالَّذِينَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُونَ (المعارج : ۲۰-۲۹) قرآن کریم کی تذکیر کے رنگ بھی بڑے نرالے، انوکھے اور بہت پیارے ہیں۔ انسانی فطرت کا کوئی ایک پہلو بھی ایسا نہیں جس کی طرف توجہ دلا کر انسان کی اصلاح ممکن ہو اور قرآن کریم نے اس کی طرف توجہ نہ دلائی ہو۔ چنانچہ قرآن کریم انسانی فطرت کے بہت باریک اور لطیف نکتے اٹھاتا ہے اور انکی طرف انسان کی توجہ مبذول کرواتا ہے، انسان کو اپنی حقیقت اور کم مائیگی سے آگاہ کرتا ہے ، اس کی حیثیت یاد کراتا ہے اور پھر اس کے لئے مایوسی کی بجائے امید کی نئی کھڑکیاں کھول دیتا ہے یعنی انسان جب اپنی حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہو کرمٹی ہو جاتا ہے تو پھر اسے اٹھاتا ہے اور اسے یہ بتاتا ہے کہ ہم تمہیں مایوس کرنے کے لئے یا نا کام اور نا مراد بنانے کے لئے یہ باتیں نہیں بتا رہے