خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 368 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 368

خطبات طاہر جلد ۲ 368 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۳ء کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس رمضان کو اس طرح کمایا کہ راتوں کو اٹھ کر خدا کے حضور گریہ وزاری کی اور سجدہ گاہوں کو آنسووں سے تر کر دیا اور ان کے شور اور اضطراب اور آہ و بکا کی آوازیں خدا تعالیٰ کی راہ میں بلند ہوئیں اور بعض دفعہ اس شدت کے ساتھ بلند ہوئیں کہ تمام ماحول تک وہ آوازیں پہنچیں۔ ابھی چند دن پہلے ایک رات میری چھوٹی بچی گھبرا کر مجھ سے پوچھنے لگی کہ ابا یہ کیا ہو گیا ہے، اس قدر رونے کی آوازیں آرہی ہیں، یہ کیا قیامت ٹوٹی ہے ۔ لفظ قیامت تو اس نے استعمال نہیں کیا لیکن چہرے پر ایسا خوف تھا کہ خدا جانے یہ کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ اس طرح لگتا ہے سارا ربوہ رو رہا ہے۔ میں نے اسے بڑے پیار سے سمجھایا کہ بیٹی اللہ کی رحمت نازل ہو رہی ہے، یہ اللہ کے بندے ہیں جو اپنی گریہ وزاری کے ساتھ اسکے عرش کو ہلا دیں گے۔ تمہیں جس قوت اور جس زور کے ساتھ یہ آواز سنائی دے رہی ہے اس سے بہت زیادہ زور کے ساتھ آسمان کے ملکوتی وجودوں کو یہ آواز سنائی دے رہی ہے، پھر اس سے بہت زیادہ عظمت اور شدت کے ساتھ اللہ کی رحمت کو یہ آواز سنائی دے رہی ہے اس لئے یہ تو روحانی انقلاب پیدا ہونے کے سامان ہیں تم گھبراؤ نہیں ، آؤ میں تمہیں باہر لے جا کر دکھاتا ہوں کہ یہ کیسی آوازیں ہیں۔ میرے ساتھ وہ باہر نکلی اور اس پر عجیب روحانی کیفیت طاری ہو گئی ۔ اس نے کہا ابا یہ اللہ میاں کے سامنے رورہے ہیں؟ میں نے کہا، ہاں سب اللہ میاں کے سامنے رورہے ہیں۔ پس رمضان رونے والوں کو ایسی لذتیں بخش گیا ہے کہ باہر والے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ، چنانچہ وہ جنہوں نے خشک دل خشک نگاہوں اور دنیا کے خوفوں کے ساتھ یہ وقت گزارا ہے ان کو کیا پتہ کہ کہ رمضان کیسی کیسی برکتیں اور لذتیں لے کر آیا اور ایسی روحانی کیفیتیں پیچھے چھوڑ گیا ہے کہ وہ سارا سال انسانی وجود کولذت سے بھرا رکھیں گی اس لئے ان کے لئے یہ وداع کا جمعہ ایک بہت ہی دردناک جمعہ بن جاتا ہے۔ کئی ان میں سے سوچتے ہوں گے کہ ہم بیمار ہیں خدا جانے اگلا سال ہم پر ایسا آتا ہے کہ نہیں کہ دوبارہ ہم اللہ تعالیٰ سے یہ برکتیں حاصل کر سکیں ، دوبارہ خدا کے حضور گریہ وزاری کر سکیں۔ کچھ بوڑھے ہیں ان کو علم نہیں لیکن جوانوں کو بھی کب علم ہے۔ اللہ کی تقدیر کا تو کسی کو علم نہیں کہ کون کس زمین پر کس وقت اٹھایا جائے ، سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا ، اس لئے ہر وہ شخص جو نیکی کا طالب ہے جو اللہ کے حضور گریہ وزاری کے ساتھ حاضر ہونے کی تمنا رکھتا ہے اس کے لئے یہ جمعہ ایک دردناک وداع کا جمعہ ہے۔