خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 366
خطبات طاہر جلد ۲ سے 366 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۳ء ۔ ہم میں ایک عظیم الشان نیکی کی قوت حاصل ہو ۔ ت حاصل ہو۔ ہم میں سے کمزور بھی توانائی پا جائیں اور آگے بڑھیں ۔ ہے سست رفتار تیز رو ہو جا ئیں اور اسلام کا یہ قافلہ پوری شان اور پوری قوت کے ساتھ تیرے حضور جھکتا ہوا تیری رحمت کو سجدے کرتا ہوا آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے ۔ اے خدا ! اگر یہ نیکیاں تیرے حضور مقبول ہیں تو ان نیکیوں کا فیض انہیں بھی عطا کر جو ہمارے پاس بیٹھے ہیں اگر اور کچھ نہیں تو یہ معجز ہی قبول کر لے، ان گناہگاروں کے طفیل ہی ہمیں بخش دے جن کے لئے آج ہماری رحمت کی دعائیں اٹھ رہی ہیں اور ان کی خاطر ہی ہماری بخشش کا سامان فرمادے جو بظاہر ہم سے کم ہیں لیکن ہم انہیں اپنے سے کمتر نہیں سمجھ رہے ۔ ہم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون ہے جس سے تو زیادہ پیار کرتا ہے پس اے خدا! اس عجز کو ہی قبول فرما اور ان گناہگاروں کے طفیل ہی ہم بظاہر نیک بندوں کو بخش دے۔ اس معجز کے ساتھ جو لوگ آج اس جمعہ میں داخل ہوں گے اور اس معجز کے ساتھ جو اس جمعہ سے نکلیں گے میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ اللہ کی رحمت ان کو رد نہیں فرمائے گی ان کا فیض ان کے بھائیوں کو پہنچے گا اور ان کے بھائیوں کا فیض ان کو ملے گا اور یہ جمعہ حقیقت میں وہ منتظر جمعہ بن جائے گا جس کی برکتوں کی آپ کو انتظار تھی ۔ کمزوروں کو بھی جنہیں عبادت کی توفیق نہیں ملی یا جن کو اس سے پہلے اس جمعہ کی عظمت کا احساس نہیں تھا میں یہ کہتا ہوں کہ یہ جمعہ تو آپ کو اللہ تعالی سے متعارف کرانے آیا ہے اس لئے نہیں آیا کہ ایک دن تو آپ کا ہاتھ پکڑلے اور پھر آپ کو چھوڑ دے۔ یہ تو اس لئے آیا ہے کہ آپ کو بھی بتائے کہ خدا کی محبت کی مٹھاس ہوتی کیا ہے۔ یہ تو اس لئے آیا ہے کہ آپ کو بھی سبق دے کہ تم اللہ کی برکتوں اور اس کی رحمتوں سے کیوں محروم ہوتے ہو۔ دیکھو! تمہارے سا ساتھ ہی تمہارے شہر میں بسنے والے کتنے اور ہیں جنہوں نے اس مہینہ کی ظاہری سختیوں کو خوشی سے قبول کیا جبکہ تم خوفزدہ تھے کہ یہ مہینہ آئے گا۔ وہ یہ انتظار کر رہے تھے کہ اللہ کی راہ میں سختیاں اٹھانے کی ہمیں توفیق ملے جبکہ تم روزوں سے دامن بچارہے تھے اور اس بات سے ڈرتے تھے کہ خدا کی راہ میں تمہیں تکلیف پہنچے وہ بے خوف اور بے دھڑک ایسی حالتوں میں بھی روزے پر تیار ہو جاتے تھے کہ انکو آنکھ نہ کھلنے کے باعث صبح کھانے کی توفیق نہیں ملتی تھی کچھ پینے کی توفیق نہیں ملتی تھی مگر اللہ پر توکل کرتے ہوئے انہوں نے اپنی بیماریاں چھپائیں ، انہوں نے اپنی کمزوریوں کو ڈھانپا اور جس طرح بھی ان کو توفیق ملی اللہ کی راہ میں قربانیاں پیش کرنے لگے۔