خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 338
خطبات طاہر جلد ۲ 338 خطبه جمعه ۷ ارجون ۱۹۸۳ء آپ آزاد ہو جائیں گے۔ کیونکہ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہے ہر مشکل کا علاج اللہ تعالیٰ کی محبت ہے اور ہر آگ کو ٹھنڈا کرنے کا نسخہ عشق الہی کی آگ ہے اور عشق الہی کی یہ آگ رمضان میں خوب بھڑکتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اس مہینہ کا رمضان نام ہی اس لئے رکھا گیا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی تپش پائی جاتی ہے۔ اللہ کی محبت جولانی دکھاتی ہے ایک خاص گرمی کی لپیٹیں اس سے آتی ہیں اس لئے یہ بہت ہی مبارک مہینہ ہے ۔ (الحکم جلد نمبر ۵ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود زیر آیت شهر رمضان الذی انزل فيه القرآن ( ہمیں سنبھالنے اور پناہ دینے کے لئے عین وقت پر آیا ہے اس لئے بہت دعائیں کریں اور خاص طور پر اپنے رب سے اس کی محبت مانگیں، اللہ کی رضا تلاش کریں اس سے التجا کریں کہ اے خدا! ہم تیری رضا پر راضی ہیں ۔ جو بھی تیری رضا ہے ہمارے لئے ٹھیک ہے لیکن ہم بہر حال تیری پناہ میں آتے ہیں ۔ ہمیں لپیٹ لے ۔ ہمیں چھپالے ، ہماری کمزوریوں سے پردہ پوشی فرما، ہماری غفلتوں کو دور فرمادے اور ہماری پناہ بن جا، ہمارے لئے قلعہ بن جا جس کے چاروں طرف تو ہی تو ہو اور دشمن ہم تک نہ پہنچ سکے جب تک تجھ پر حملہ آور ہو کر نہ پہنچے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ اگر یہ ہو جائے تو ہم نے گویا اپنی زندگی کا مقصد پالیا۔ جس کو خدامل جائے اس کو پھر اور کیا چاہئے ۔ پھر تو وہ بے اختیار یہ کہے گا : فَلَسْتُ أُبَالِي حِيْنَ أَقْتَلُ مُسْلِماً عَلَى أَيِّ شِقٍ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي میں تو اپنے رب کو پا چکا ہوں اب اگر تم مجھے قتل کرتے ہو تو مجھے کیا پرواہ ہے کہ میں قتل ہونے کے بعد کس کروٹ کروں گا۔ وذلك فِي ذَاتِ الإِلَهِ وَ إِنْ يَّشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْ صَالِ شِلُةٍ مُمَزَّع ( بخاری کتاب المغازی باب فضل من شهد بدرًا) خدا کی قسم میرا یہ مرنا اور میر قتل ہونا محض اللہ کی خاطر ہو گا اور اگر وہ چاہے تو میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے پر رحمتیں نازل فرما سکتا ہے۔ پس جس قوم کو ایسی خوش نصیبی عطا ہو۔ جس کو ایسی ہمیشہ کی فلاح کی راہ مل جائے اس قوم کے لئے خوف و ہراس کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ اپنی محبت اور رضا کی چادر میں ہمیں ڈھانپ لے۔ آمین روزنامه الفضل ربوه ۲۶ رجون ۱۹۸۳ء)