خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 230
خطبات طاہر جلد ۲ کی تصحیح ضروری سمجھی گئی۔ 230 خطبہ جمعہ ۲۲ اپریل ۱۹۸۳ء ہر چند کہ نسیان اور بھول چوک کے نتیجہ میں جو غلطی ہو وہ قابل مواخذہ نہیں ہوتی لیکن بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں کہ وہاں غلطی پھیل کر عام ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے اور پھر بعض مقام ایسے ہوتے ہیں جن کی طرف غلط بات منسوب کرنا خواہ بھول کے نتیجہ ہی میں کیوں نہ ہو نہایت سنگین بات بنتی ہے اس لئے بھول چوک اپنی جگہ لیکن اس محل اور موقعہ پر کہ خلیفہ وقت کا خطبہ ہو رہا ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف بات منسوب کی گئی ہو، یہ بھول چوک بھی اپنی ذات میں ایک بڑی غلطی ہے۔ اس سلسلہ میں جہاں تک استغفار کا تعلق ہے وہ تو میرا اپنے رب کے سامنے ہے لیکن جہاں تک وضاحت کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے سامنے وضاحت پیش کروں کہ کیوں ایسا ہوا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر کشفاً سورہ عصر کی جو تفسیر بیان فرمائی اس میں یہ بات خاص طور پر بیان کی گئی کہ اس سورۃ کے اندر جو اعداد ہیں ان میں بہت بڑی حکمتیں مضمر ہیں۔ مثلاً آپ نے اس سورۃ کے پورے اعداد سے یہ استنباط فرمایا ہے کہ آدم سے لے کر صلى الله آنحضرت ﷺ کے وصال تک چار ہزار سات سو انتالیس برس کا عرصہ گزرا ہے اور فرمایا کہ یہ اس علی ۔ لئے کہ اس سورۃ کے شروع سے آخر تک کے جو اعداد ہیں وہ چار ہزار سات سو انتالیس بنتے ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ یہ علم مجھے اللہ تعالیٰ نے کشفاً عطا فرمایا ہے کہ یہ وہ زمانہ ہے جو آدم الله سے لے کر حضرت محمد مصطفی لی علم علی کے ۲۳ سالہ زمانہ نبوت کے آخر تک بنتا ہے۔ جب میں نے اس دوست کا خط پڑھا تو مجھے یاد آ گیا کہ میرے ذہن میں یہ اشتباہ کیوں پیدا ہوا تھا۔ بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب ایک تفسیر پیش فرماتے ہیں تو وہ تفسیر اتنی خیال انگیز ہوتی ہے کہ اس سے آگے بہت سے دوسرے گوشے بھی روشن ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور انسان کی توجہ تفسیر کے بعض نئے نئے پہلوؤں کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ چونکہ کچھ عرصہ پہلے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تفسیر کی روشنی میں اس سورۃ پر غور کیا تھا اس لئے میرے ذہن میں جو دو باتیں نمایاں طور پر سامنے آئیں وہ اس غلطی کا موجب بنیں ۔ چنانچہ ایک زمانہ کے بعد میں نے غلطی سے یہ سمجھا کہ یہ تفسیر میں نے مسیح موعود علیہ السلام کی پڑھی تھی حالانکہ وہ خود اس تفسیر پر مبنی تھی مگر تھی میری اپنی تفسیر ۔ وہ کیا تھی ، وہ بیان کرنے سے پہلے میں کچھ اور باتیں وَالْعَصْرِ